نیوم حقیقت ہے .. ہم اس پر آگے بڑھ رہے ہیں! الجبیر کا ناقدین کو پیغام

یہ شہر لوگوں کے شہروں اور شہری منصوبہ بندی کو دیکھنے کے انداز میں بنیادی اور انقلابی تبدیلی لائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"میں مفروضے قائم کرنے والوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتا مگر نیوم اور دا لائن حقیقت ہیں۔"

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور سفیر برائے موسمیاتی امور عادل الجبیر نے یہ بات ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے ایک پینل میں سعودی عرب کے منصوبوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

الجبیر نے کہا کہ ان منصوبوں پر تعمیراتی کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اور اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ اعلیٰ معیار زندگی کے ساتھ ماحول دوست اور پائیدار شہر بنانے کی ایک کوشش ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہاں ٹریفک کا ہجوم نہیں ہوگا اور رہائشی مختلف علاقوں میں بآسانی اور گاڑیوں کے بغیر جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا، "وہاں کاریں نہیں ہیں۔ نقل و حمل کے دوسرے ذرائع ہوں گے، جو ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی پر مبنی ہیں۔"

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیوم میں "دا لائن" کا شہر محض 200 میٹر چوڑا، 170 کلومیٹر لمبا اور سطح سمندر سے 500 میٹر بلند ہوگا۔

نیوم کو کیا بات امتیازی شہر بناتی ہے؟

محض 34 مربع کلومیٹر رقبے پر تعمیر کیا جانے والا یہ شاندار شہر 9 ملین آبادی کے رہنے کے قابل ہوگا، اس سائز کے شہروں میں ایسی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

شہر کے پھیلاؤ کو کم سے کم رکھتے ہوئے کارکردگی اور پائیداری کو نمایاں طور پر بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سال کے ہر موسم میں اس کی مثالی آب و ہوا کے باعث رہائشی پیدل سفر کرتے وقت فطرت سے لطف اندوز ہوں۔

دی لائن میں تمام رہائشیوں کو 5 منٹ کے اندر تمام سہولیات اور خدمات تک رسائی ممکن ہوگی، اس کے علاوہ ایک تیز رفتار ٹرین کے زریعے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ 20 منٹ لگیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں