3 سالہ برطانوی بچہ انتہائی ذہین افراد کی سوسائٹی کا رکن بن گیا

’’ مینسا‘‘ ایسوسی ایشن کی رکنیت لینے والا ٹیڈی ہوبز 7 زبانوں میں پڑھ اور حساب کر سکتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک برطانوی بچے نے شاندار کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتہائی ذہین افراد کی سوسائٹی ’’ مینسا‘‘ کی رکنیت حاصل کرلی، اس سوسائٹی میں صرف اعلیٰ ذہانت کے حامل افراد ہی داخل ہوسکتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ برطانوی بچے کی عمر ابھی تین سال کی ہے۔

ٹیڈی ہوبز
ٹیڈی ہوبز

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے بتایا ہے کہ ٹیڈی ہوبز نے 3 سال 9 ماہ کی عمر میں انتہائی باوقار اور ذہین افراد کی ایسوسی ایشن ’’ مینسا‘‘ کی رکنیت حاصل کرکے حیران کر ڈالا ہے۔ وہ 7 زبانوں میں 100 تک گنتی پڑھ سکتا اور گن سکتا ہے۔ ان میں سے چھ زبانیں اس کے لیے اجنبی ہیں۔ ان زبانوں میں مینڈارن، ویلش، فرانسیسی، ہسپانوی اور جرمن شامل ہیں

۔

ٹیڈی ہوبز اپنے والدین کے ساتھ
ٹیڈی ہوبز اپنے والدین کے ساتھ

ذہین ٹیڈی ہوبز نے ابتدائی پڑھنا اس وقت سیکھ لیا جب وہ صرف دو سال اور چار ماہ کا تھا۔ وہ شروع سے ہی ریاضی سے بہت محبت کرتا تھا۔ سمرسیٹ کاؤنٹی انگلینڈ میں رہنے والا بچے نے ایسوسی ایشن کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے علمی امتحان دیا اور کامیاب ہوگیا۔ امتحان میں اس نے 160 میں سے 139 پوائنٹس حاصل کرکے والدین اور اطراف کے لوگوں کو حیران کردیا۔

ٹیڈی ہوبز
ٹیڈی ہوبز

باصلاحیت ٹیڈی ہوبز حال ہی میں "ہیری پوٹر" کی کتابیں پڑھنے کے بھی قابل ہو گیا ہے۔ جب اسے موقع ملتا ہے وہ یہ کتابیں پڑھتا ہے۔

بچے کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ ٹیڈی کی زبردست ذہانت سے حیران تھے۔ وہ اس باوقار ایسوسی ایشن کی رکنیت حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ تاہم اب وہ اس ایسوسی ایشن میں رکنیت حاصل کرنے والا اب تک کا سب سے کم عمر برطانوی بن گیا ہے۔ اس سے قبل ایک امریکی بچہ اس ہائی آئی کیو سوسائٹی ’’مینسا‘‘ کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

والدین نے اپنے بچے کی منفرد شخصیت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹیڈی ہوبز الگ بچہ ہے۔ یہ ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں کرتا جن چیزوں کی طرف عام طور پر بچوں کا رجحان ہوتا ہے۔ وہ عام بچوں کی طرح ویڈیو گیمز اور ٹیلی ویژن جیسی چیزوں پر توجہ نہیں دیتا۔ ٹیڈی ہوبز کی یادداشت انتہائی مضبوط ہے اور وہ ہر بات پوری توجہ سے سنتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں