سعودی عرب میں ’انڈور ورٹیکل فارمنگ‘ کا آغاز، امریکی کمپنی کے ساتھ شراکت داری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں روایتی کاشت کاری کے ساتھ ساتھ ان دنوں عمودی کاشتکاری یعنی انڈور ورٹیکل فارمنگ کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

"انڈور ورٹیکل فارمنگ" تکنیک سے کم جگہ میں زیادہ خوراک اگانا ممکن ہے اور اس میں روایتی کاشتکاری کے مقابلے میں 95 فیصد کم پانی استعمال ہوتا ہے۔

مملکت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ’’کہ سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے امریکی کمپنی ایرو فارمز کے ساتھ ریاض میں ہیڈکوارٹر کے قیام لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی کمپنی سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کے لیے ورٹیکل فارم تیار کرے گی۔ معاہدے کا مقصد "انڈور ورٹیکل فارمنگ" تکنیک کو اپناتے ہوئے قدرتی وسائل کا بہترین استعمال کرنا ہے۔

اس شراکت داری سے سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پورا سال اعلیٰ معیار کی مقامی فصلیں فراہم کرنے کی توقع ہے۔ ایروفارمز گلے چند سالوں کے دوران خطے میں کئی فارمز قائم اور چلائے گی۔"

ایجنسی کے مطابق پہلے ورٹیکل فارم کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ 1.1ملین کلو گرام ہے، جو مینا ریجن میں اسمارٹ ٹیکنالوجی سے پیداوار کی اب تک سب سے بڑی مقدار ہے۔

پبلک انوسٹمنٹ فنڈ میں کنزیومر گڈز اور ریٹیل کے نگران ماجد العساف نے بتایا کہ معاہدے کا مقصد اعلیٰ معیار کی مقامی فصلوں پر انحصار بڑھانا ہے جو انتہائی جدید طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے پائیدار ذرائع سے تیار کی جائیں گی۔

ایرو فارمز کے شریک بانی اور سی ای او ڈیوڈ روزن برگ نے کہا کہ کمپنی کا ہدف بہترین فصلیں اگانا اور دنیا کو درپیش زرعی چیلنجوں کے حل تلاش کرنے میں مدد دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب میں شراکت داری کے بارے میں "انتہائی پرجوش" ہیں، خاص طور پر ان چیلنجوں کے درمیان جن کا یہاں کی زراعت کو سامنا ہے جیسے کہ محدود قابل کاشت زمین اور پانی کی دستیابی۔

الپن کیپٹل جی سی سی فوڈ انڈسٹری کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنی خوراک کا 90 فیصد تک درآمد کرتے ہیں۔ اعداد وشمار میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی بڑی معاشی طاقتیں شامل ہیں۔

خوراک کی پیداوار میں خودانحصاری کے حصول کے لیے 2021 میں سعودی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے عمودی کاشتکاری کی ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرنے کے لیے 26.5 ملین ڈالر مختص کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں