سیری کو بھول جائیں اب سارہ سے ملیے!

سعودی عرب کی پہلا فعال روبوٹ جو مقامی لہجے میں بات کر سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سارہ سے ملیے؛ یہ سعودی عرب کا پہلا روبوٹ ہے جو مقامی لہجے میں بات چیت کرسکتا ہے، رقص کرسکتا ہے اور سوالات کا جواب دے سکتا ہے۔

سرکاری خبر رساں سعودی پریس ایجنسی نے منگل کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ سارہ، ریاض میں لیپ 2023 کانفرنس کے ڈیجیٹل پویلین میں آنے والوں کا خیرمقدم کر رہی ہے۔

اس روبوٹ میں موجود ایک کیمرہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے سامنے کھڑے لوگوں کو پہچانتا ہے۔

"ہیلو سارہ" سے مخاطب کیے جانے پر روبوٹ آپ سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔

سارہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تربیت یافتہ ماڈل ہے جو سعودی مملکت میں پائی جانے والی مختلف بولیوں کو پہچانتی ہے، فقروں کا تجزیہ کرتی ہے ، مفہوم کو سمجھتی ہے، پھر مناسب جواب دیتی ہے۔

سارہ اس سال کے لیپ ایونٹ کا اہم حصہ ہے۔ یہ ایک بڑی ٹیکنالوجی کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن ہے جو گذشتہ سال ریاض میں شروع کی گئی، جس میں اسنیپ، آرامکو، اور زوم سمیت متعدد کمپنیوں کے نمائندے اپنی ایجادات کی نمائش کرتے ہیں۔

لیپ کانفرنس کا آغاز کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس اوریکل کی جانب سے سعودی عرب میں 1.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ ہوا تھا۔

لیپ کانفرنس پیر 6 فروری سے جمعرات 9 فروری تک ریاض فرنٹ ایکسپو سینٹر میں منعقد ہو رہی ہے۔

اس میں 50 ممالک کے 720 سے زیادہ اسپیکر شامل ہوں گے۔ دیگر نمائش کنندگان میں گوگل ، نیوم، ماسٹرکارڈ ، ایرکسن، اور ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی علاقے کے چیف ایگزیکٹو جان لی شامل ہیں۔

مجموعی طور پر 100,000 سے زیادہ لوگوں کی کانفرنس میں شرکت متوقع ہے، جس کا اہتمام مملکت کی وزارت برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے "تحلف" کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں