لندن میں ’’ جزیرہ نما عرب کی پہلی خاتون مہم جو‘‘ کے عنوان سے نمائش

نمائش میں ’’کنگ عبد العزیز پبلک لائبریری‘‘ کی شرکت، شہزادی ایلس کی لی گئی تصاویر پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے لندن کی "جزیرہ نما عرب کی پہلی خاتون ایکسپلوررز" نمائش میں شرکت کی ہے۔ یہ نمائش لندن میں رائل سوسائٹی آف جیوگرافی کے ہیڈ کوارٹرز میں سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقد کی گئی ۔ نمائش 6 مارچ 2022 تک جاری رہے گی۔ نمائش میں شہزادی ایلس، فوٹوگرافر، کاؤنٹیس آف ایتھلون کی تصاویر کا مجموغہ پیش کیا گیا۔ یہ تصاویر شہزادی ایلس نے اپنے شوہر ارل آف ایتھلون کے ساتھ 1938 میں سعودی عرب اور بحرین کے دورہ کے دوران لی تھیں۔

اس تاریخی دورے کی دستاویز میں ’’کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری‘‘ نے برسوں پہلے ایک جامع جلد جاری کی تھی جس میں ایلس کی تاریخی تعارف کے ساتھ لی گئی تصاویر کا مجموعہ شامل تھا۔ یہ اس دورے اور ان مقامات پر روشنی ڈالتا ہے جہاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ گئی تھیں۔ ان کا استقبال سعودی عرب کے بنای شاہ عبد العزیز آل سعود نے کیا تھا۔

شہزادی ایلس کا یہ دورہ 25 فروری سے 17 مارچ 1938 کے درمیانی عرصے میں ہوا تھا۔ شہزادی ایلس برطانوی شاہی خاندان اور حتیٰ کہ تمام یورپی شاہی خاندانوں کی پہلی فرد تھیں جنہوں نے اس وقت سعودی عرب کا دورہ کیا تھا ۔ ملکہ وکٹوریہ کی پوتی شہزادی ایلس کی جانب سے اپنے سفر کے دوران لی گئی یہ نادر تصاویر تھیں جن کا ایک پورا مجموعہ تیار کیا گیا تھا۔

سفر کی تفصیلات

شہزادی ایلس اور ان کے شوہر انگلینڈ سے پورٹ سعید کی بندرگاہ پر روانہ ہوئے۔ وہاں سے وہ قاہرہ، پھر پورٹ سوڈان اور پھر جدہ کی بندرگاہ پر پہنچے جہاں شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے ان کا استقبال کیا۔ پھر انہیں شاہ عبدالعزیز آل سعود سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ کنگ عبد العزیز اس وقت جدہ میں تھے۔

مملکت کے مغرب سے ان کے دورے کے لیے جزیرہ نما عرب کو عبور کرتے ہوئے اس کے مشرق میں طائف سے گزرنا ضروری تھا جہاں شہزادی ایلس اور اس کے ساتھی گاڑیوں کے قافلے میں اس کی طرف روانہ ہوئے۔ شہزادی ایلس کے قافلے کو اس سفر میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، تاہم شہزادی ان مشکلات کے باوجود کمزور نہیں ہوئیں۔ شہزادی ایلس راستے میں دیکھے جانے والے دلکش سبز مناظر سے سحر زدہ ہو گئی تھیں۔ انہوں نے کیمپوں میں راتیں گزار کر لطف اٹھایا ۔ یہ کیمپ وقفے وقفے سے مختلف صحراؤں میں قائم کیے گئے تھے۔

ناہموار سڑکوں کو عبور کرنے کے بعد بیر عشیرہ اور الدوادمی سے گزرتے ہوئےشہزادی ایلس اور ان کے شوہر وادی حنیفہ کے مغربی کنارے پر البدیعہ کے شاہی مہمان محل میں قیام پذیر ہوئے۔ پھر وہ ریاض گئےجہاں ’’ الحکم‘‘ محل میں ان کا استقبال ولی عہد شہزادہ سعود بن عبد العزیز نے کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ریاض کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے المصمک قلعہ دیکھا۔

نایاب تصاویر

شہزادی ایلس نے اپنے اس سفر کی تصا ویر لیں ۔ اپنے سفر کے متعدد واقعات اور تفصیلات کو فلمایا۔ ایسی نایاب تصاویر لی گئیں جن کو شائع نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس سفر کے بارے میں اپنی یادداشتیں اپنی بیٹی کے نام خطوط کی شکل میں لکھیں۔

شہزادی ایلس فوٹو گرافی کے فن میں مہارت رکھتی تھیں ۔ انہوں نے اپنے کیمروں سے 320 سے زیادہ نایاب بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کھینچیں۔ کچھ رنگین تصاویر بھی شامل ہیں جو کسی اور شخص نے لی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سعودی عرب میں لی گئی پہلی رنگین تصاویر ہیں۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری ان محفوظ نایاب تصاویر کے ذریعے محققین اور سکالرز کو قلیل عرصہ میں سعودی عرب کی ترقی کے ادوار اور مختلف مراحل سے آگاہی فراہم کر دیتا ہے۔

خیال رہے جزیرہ نما عرب کی پہلی خاتون متلاشیوں کی نمائش کا افتتاح آٹھ فروری کو برطانیہ میں حرمین شریفین کے متولی کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں ہوا تھا۔ ان کے سفر کے بارے میں ایک کتاب جس کا عنوان ہے "A Journey to the Land of Najd"، انگریز محقق، ایکسپلورر اور ماہر آثار قدیمہ گرٹروڈ بیل، مصنفہ اور ایکسپلورر لیڈی ایولین کوبالڈ اور سکاٹش لیڈی ایولین زینب کوبولڈ نے لکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں