پانچ روز ملبے تلے رہنے والے بچے نے باہر آکر چاکلیٹ مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ میں چار سال کی عمر کے ایک چھوٹے بچے نے امدادی کارکنوں کو حیران کر دیا جب انہوں نے اسے تباہ کن زلزلے کے ملبے کے نیچے سے نکالا ۔ زلزلہ نے ترکیہ کے جنوب کی 10 ریاستوں میں تباہی مچا دی ہے۔

تھکاوٹ کے آثار کے باوجود امدادی کارکن بچے کو سہولت اور آرام پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس سے پوچھ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اس موقع پر 5 دن ملبے کے نیچے گزارنے کے بعد نکالے گئے بچے نے جو چیز مانگی اس نے سب کو حیران کردیا۔ یاجیز نام کا یہ بچہ پانچ دن ملبے تلے رہنے کے بعد اب صرف چاکلیٹ مانگ رہا تھا۔ تاہم تباہی اور بربادی کے درمیان کوئی بھی اس کی درخواست پرفوری عمل نہ کر سکا اور چھوٹے بچے کو ایمبولینس کے عملے نے علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا۔

مقامی میڈیا کے مطابق تاہم اس وقت ایک اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب ریسکیو اہلکار اس سے ملنے آیا اور اپنے ساتھ چھوٹا کھلونا اور بڑی مقدار میں چاکلیٹ بھی ساتھ لے کر آیا ۔

یاد رہے ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں ۔ بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کے بعد ان افراد کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

زلزلہ کی تباہی کے بعد سینکڑوں بچے صدمے کا شکار ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر ان میں بڑی تعداد میں ایسے بچے بھی ہیں جو کئی کئی دن ملبے کے نیچے دبے رہ کر نکالے گئے ہیں اور اب بیمار ہیں۔ بڑی تعداد میں بچے والدین اور رشتہ داروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ متعدد ماہرین اور نفسیات دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کی ذہنی صحت پر طویل المدت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان اثرات کو وقت گزرنے کے ساتھ ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ کئی ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر اور مرگی کے دورے پڑنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں