شمالی سعودی عرب کے صحرا میں بنفشی پھولوں کا قالین بچھ گیا: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

موسم سرما میں معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے شمالی سعودی عرب کے صحرائی علاقے کو خوشنما جامنی رنگ کے پھولوں سے ڈھانپ لیا جسے دیکھنے کے لیے سیاح جوق در جوق آ رہے ہیں۔

سعودی شہری 50 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر محمد المطیری بھی تقریباً چھ گھنٹے کا فاصلہ طے کر کے یہ حسین نظارہ دیکھنے پہنچے ہیں۔ انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یقین ہی نہیں آرہا کہ یہ منظر سعودی عرب میں ہے،‘‘

رفحاء شمال مشرق سعودی عرب
رفحاء شمال مشرق سعودی عرب

عراقی سرحد کے قریب رفحاء کے ارد گرد صحرا میں تاحد نگاہ ارغوانی رنگ کے پھولوں کا قالین بچھا نظر آتا ہے۔ عربی میں جنگلی لیوینڈر کے نام سے جانے والے ان پودوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "ان کی خوشبو اور خوبصورتی روح کو تازگی بخشتے ہیں۔"

پچھلے سال کے آخر موسم سرما کی بارشوں سے سعودی عرب کے بعض مغربی حصوں میں سیلاب آگیا تھا، تاہم شمالی علاقوں میں بنجر صحراؤں کو نئی زندگی ملی ہے۔

رفحاء شمال مشرقی سعودی عرب
رفحاء شمال مشرقی سعودی عرب

55 سالہ سعودی تاجر ناصر الکرانی نے رنگ برنگے پھولوں کو دیکھنے کے لیے دارالحکومت ریاض سے 770 کلومیٹر (480 میل) کا سفر طے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ منظر سال میں 15 سے 20 دن تک رہتا ہے اور ہم اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے قیام کرتے ہیں۔

شمالی مشرق سعودی عرب میں رفحاء میں ارغوانی پھولوں کا قالین
شمالی مشرق سعودی عرب میں رفحاء میں ارغوانی پھولوں کا قالین

سیاحوں نے صحرا میں خیمے لگائے اور لکڑیاں جلا کر آگ پر کھانا پکایا۔ 56 سالہ سعودی شہری حمزہ المطیری، جو دوستوں کے ساتھ کیمپنگ کر رہے تھے، نے کہا کہ یہ "کرشمہ قدرت انسان کو زندگی کے لیے ایک نئی تحریک دیتا ہے۔"

طول سفر کر کے قطر سے آئے ہوئے ایک سیاح عبدالرحمٰن المری نے کہا کہ "یہ دلفریب منظر واقعی ہی اس قابل ہے کہ اس کے لیے 12 گھنٹے کا سفر کیا جائے۔ ’’ایسا لگتا ہے گویا ہم جنت میں ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں