صورتحال انتہائی افسوسناک ہے: ترکیہ میں موجود سعودی امدادی خاتون کی گفتگو

رھف العبید کی سعودی عرب سے باہر امدادی مشن میں کام کے متعلق ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکی زبان کے بارے میں اپنے علم کے ذریعے سعودی پیرامیڈک رھف العبید سعودی امدادی ٹیم کے مشن کو آسان بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ انہوں نے ترکیہ میں تباہ کن زلزلے کے بعد وہاں ایمبولینس مہم میں حصہ لیا۔

نوجوان سعودی خاتون کو یہ توقع نہیں تھی کہ ترکی زبان سیکھنا اس آزمائش میں اس کا ساتھ دے گا کیونکہ وہ زلزلے سے متاثرہ افراد اور متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کرنے اور ترجمے کے ذریعے مدد کرنے اور ٹیم کی نقل و حرکت سیکھنے میں کامیاب رہی۔ سعودی خاتون نے بتایا کہ میں نے یہ علم پہلی مرتبہ استعمال نہیں کیا بلکہ میں نے اسے مکہ میں المسجد الحرام اور ہوائی اڈوں پر ترکوں سے بات چیت کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔

ریلیف کا پہلا تجربہ

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو اپنے انٹرویو میں رھف العبید نے کہا کہ میں ایک ایمرجنسی میڈیسن کی ماہر ہوں اور یہ سعودی عرب سے باہر میرا پہلا امدادی تجربہ ہے ۔ میں اپنے ساتھیوں کے ایک گروپ کے ساتھ باہر گئی۔ ان ساتھیوں کے بیرون ملک تجربے کی بھرپور تاریخ تھی۔ یہ میرے لیے بھی ایک بھرپور تجربہ ثابت ہوا۔

سعودی خاتون نے مزید کہا کہ ترکیہ میں صورت حال انتہائی تکلیف دہ اور المناک ہے ۔مجھے یاد ہے میں ایک متاثرہ شہر میں داخل ہوئی۔ یہ شہر ایک بھوت شہر کی طرح بن گیا تھا۔ یہ مکینوں سے خالی ہوگیا تھا ۔ ہر طرف تباہی تھی۔ جہاں تک تنظیم کا تعلق ہے ہمارے کاموں اور کام کے مقامات کو حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد ضرورت کی بنیاد پر مربوط اور تقسیم کیا جاتا ہے۔

رھف العبید کام کے دوران
رھف العبید کام کے دوران

سب سے اہم رکاوٹیں

رھف نے سب سے اہم رکاوٹوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم متاثرہ شہروں میں گئے تو جن سب سے اہم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہ تباہی کی وجہ سے ان علاقوں میں داخل ہونے میں دشواری تھی۔ دوسری چیز سرد موسم تھا جس میں ہمیں کام کرنا تھا۔ ایک سعودی میڈیکل ٹیم کے لیے اہم کام متاثرہ افراد کو طبی خدمات فراہم کرنا تھا۔ اس حوالے سے ٹیم کے تمام ارکان کے لیے کردار یکساں ہیں ۔ ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بہت سے مشکل اور افسوسناک حالات پیش آتے ہیں۔ انہیں حالات میں ایک کیمپ میں ایک بچہ کے رویہ بھی یاد گار رہا ۔ اس بچے کی عمر 11 سال سے زیادہ نہیں تھی ۔ اس نے اپنے بیمار والد کی مدد کے لیے اپنی پڑھائی چھوڑ دی۔ وہ ہم سے بات کرنے کے لیے ہمارے پاس آیا اور جب اسے بھوک لگی تو اس نے اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر ہمارے درمیان تقسیم کر دی اور اظہار خیال کے طور پر اس وقت تک کھانے سے انکار کر دیا جب تک ہم اس کے ساتھ کھانا نہ کھا لیں۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اجنبیوں کے ساتھ بانٹ رہا تھا۔ سخت حالات کے باوجود وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہچکچایا۔

رھف العبید کی ٹیم
رھف العبید کی ٹیم

ترکی زبان

ترکی زبان سیکھنے کے بارے میں رھیف العبید نے بتایا کہ انہوں نے کئی سال پہلے ترکی زبان میں دلچسپی شروع کی تھی اور انٹرنیٹ کے استعمال کے ذریعے خود تعلیم پر توجہ مرکوز کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اب اس موقع پر زبان کی رکاوٹ کو دور کیا گیا اور اس کے ساتھ رابطے میں آسانی پیدا ہوئی۔ اس سے ترک حکام اور متاثرہ افراد سے رابطہ میں آسانی ہوگئی ۔ اس طرح سعودی طبی خدمات کی فراہمی کو تیز کرنے کا موقع مل گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ہلال احمر سے وابستہ خواتین کی بہت سی شراکتیں ہیں جن میں سعودی عرب میں ہلال احمر کی رضاکار ٹیم بھی شامل ہے۔ میرے ساتھ میری ساتھی ایمرجنسی میڈیسن اور ہلال احمر میں ایمبولینس کے ماہرین کے ساتھ ساتھ ریڈ جیکٹ ٹیم کے ارکان بھی ہیں۔

رھف نے کہا اگر میں اپنے ملک واپس آؤں تو میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے اس سفر میں جو شکر گزاری اور فخر محسوس کیا، اس کے متعلق بتاؤں گی۔ تباہی کے باوجود میں نے بچوں کی آنکھوں میں جو امید دیکھی تھی اس سے آگاہ کروں گی ۔ یہ بتاؤ ں کی کہ کس طرح ہر جگہ مسلمانوں کی حمایت میں سعودی عرب کا عظیم کردار سامنے آتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size