طالبان میں بغاوت کے آثار .."ابھی تو صرف شروعات ہیں": حقانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

افغانستان میں طالبان کے اندر اختلاف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں افغان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کچھ سرکردہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ مل کر شوریٰ کونسل برائے گورننس کے قیام کے لیے ایک اندرونی تحریک کی قیادت کرنا شروع کی ہے جو طالبان تحریک کے سپریم رہنما، ہیبت اللہ اخونزادہ کی حکومت پر اجارہ داری کے خلاف فیصلے لے گی۔

ہفتے کے روز، العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ طالبان رہنماؤں کی اکثریت الگ تھلگ رہنے والے امیر اخونزادہ کی جانب سے انہیں جواب دینے میں ناکامی ، ملاقات اور خطاب کرنے سے انکار پر ناراض ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں نے انہیں کچھ فیصلوں سے باز رکھنے کی کوششیں کی تاہم اخونزادہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔


وزیر دفاع کا اعتماد

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سراج الدین حقانی ، وزیر دفاع محمد یعقوب کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور انہیں شوریٰ کونسل کی تشکیل پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے رہنماؤں سے مشاورت کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ وزیر دفاع محمد یعقوب تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے
ہیں اور تحریک میں انہیں کافی بااثر مانا جاتا ہے۔

اس نے یہ بھی طاہر ہوتا ہے کہ حقانی اور یعقوب عسکری طور پر قیادت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ، اور "لیڈر" کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن طریقہ کار پر کاربند ہیں۔


خواتین کی اسکول واپسی

لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کے فیصلے کے حوالے سے ، جس کے باعث ملک کے اندر اور باہر شدید تنقید ہورہی ہے، ذرائع نے ان حالیہ افواہوں کی تردید کی جن میں موسم بہار کے سمسٹر کے دوران لڑکیوں کی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپسی کے متوقع فیصلے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کی کہ طالبان حکومت کے کچھ وزراء نے ہیبت اللہ کو ایک خط بھیجا، جس میں ان سے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کام پر پابندی پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا۔

تاہم، انہوں نے ایک جملے میں جواب دیا: "اگر آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام 12 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دیتا ہے، تو میں لڑکیوں کو تعلیم اور کام کرنے کی اجازت دوں گا۔"


یہ صرف شروعات ہیں

"العربیہ" کے ذرائع کے مطابق حقانی نے دیگر قیادت کو بتایا ہےکہ اقتدار پر اجارہ داری کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات قندھار سے جاری کیے جانے والے فیصلوں کو مسترد کرنے کا آغاز ہیں جن کے باعث افغان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہورہا ہے۔ اورعالمی برادری طالبان حکومت کو قبول کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔

حقانی نے کہا کہ اگر آئندہ مارچ تک تعلیمی سال کے آغاز پر تعلیم کے بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہ کیا گیا ، شوری کونسل ، وزارتوں اور فوجی عہدوں پر تقرریوں اور برطرفیوں میں ہیبت اللہ کی مداخلت کو نہ روکا گیا، تو وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قندھار میں تحریک کے سپریم رہنما اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کھل کر تنقید کریں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے بعد وہ خود کو اور اپنے اتحادی رہنماؤں کو افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ان فیصلوں سے بری کرنے کی کوشش کریں گے جو حکومت اور افغان عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرتے ہیں، اور واضح طور پر اعلان کریں گے کہ فیصلے ایک رہنما جاری کرتے ہیں، اور یہ بتائیں گے کہ انہوں نے شوریٰ کے نظام میں خلل ڈالا ہے۔

مذہب سے نفرت مت پھیلائیں

گذشتہ ہفتے حقانی نے طالبان کے سپریم لیڈر اور الگ تھلگ رہنے والے رہنما پر تنقید کی اور کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اس لیے مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، طالبان کو شہریوں کو اطمینان دلانا چاہیے اور اس طرح کام کرنا چاہیے کہ لوگ طالبان سے نفرت نہ کریں اور پھران کی وجہ سے مذہب سے بھی نفرت نہ کریں۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد، طالبان نے وعدوں کے باوجود، خواتین کی تعلیم سمیت کچھ معاملات پر لچک دکھانے کی بجائے پچھلے دور حکومت کی طرح شدت پسندی کا مظاہرہ کیا۔

دھیرے دھیرے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا اور انہیں گھر پر رہنے کے لیے کم اجرت دینے کے بعد ملازمتوں سے ہٹا دیا۔ گزشتہ نومبر میں خواتین کے پارکوں، باغات، جم اور عوامی سوئمنگ پولز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

خواتین کے لیے کسی مرد رشتہ دار یا محرم کے بغیر سڑکوں پر گھومنے پر بھی سزا رکھی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں