ملبے تلے پیدا ہونیوالی ’’عفراء‘‘ اپنی پھوپھی کے گھر میں محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آخر کارحیران کن طورپر ملبے تلے پیدا ہونے والی بچی ’’ عفراء‘‘ کو اس وقت تحفظ اور سکون مل گیا جب وہ اپنی پھوپھی کے گھر پہنچ گئی ہے۔ ’’عفراء‘‘ کے ماں با پ اور بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔ زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بچی کی فوٹیج بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد لاکھوں افراد نے بچی کی سٹوری کو فالو کیا تھا۔ اس وقت ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص ملبے کے ڈھیر سے نیچے اتر رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک مٹی سے آلودہ نومولود ہے ۔

پھوپھی ہالہ نے عفراء کو پکڑا ہوا ہے
پھوپھی ہالہ نے عفراء کو پکڑا ہوا ہے

بعد ازاں معلوم ہوا کہ نومولود بچی عبد اللہ اور عفراء ملیحان کی بیٹی تھی۔ یہ واقعہ شام کی ’’حلب‘‘ گورنری میں حزب اختلاف کے زیر کنٹرول شہر ’’جندریس‘‘ میں پیش آیا تھا۔ لڑکی کا علاج عفرین کے مغرب میں واقع ’’جیھان‘‘ ہسپتال میں ہوتا رہا، یہ علاقہ بھی اپوزیشن کے کنٹرول میں ہے۔ اب طبی عملہ نومولود بچی کے رشتہ داروں کی شناخت کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ ہفتہ کو اس کی پھوپھی ’’ہالہ ‘‘اور ان کے شوہر ’’خلیل السوادی‘‘ نے بچی کو گود لے لیا اور اس کا نام اس کی جاں بحق ماں ’’عفراء‘‘ کے نام پر ’’عفراء ‘‘ ہی رکھ دیا۔

حیران کن طور پر پیدا عفرا اپنے پھوپھا کی گود میں
حیران کن طور پر پیدا عفرا اپنے پھوپھا کی گود میں

السوادی نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ بچی میرے اور میرے خاندان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔ بچی نے سارا خاندان کھو دیا ہے۔ اب یہ بچی اپنے تمام رشتہ داروں کی ایک یادگار کے طور پر ہمارے پاس رہے گی۔ خلیل السوادی نے ’’عفراء‘‘ کو ہسپتال سے اغوا کرنے کی کوشش کے متعلق بھی بتایا تھا۔ السوادی نے ’’ العربیہ‘‘ کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ شامی حکومت نے لوگوں کے ذریعہ کوشش کی تھی کہ اس بچی کو اغوا کرا لیا جائے تاہم اغوا کی یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔

ہم نے اغوا کی کوشش سامنے آنے کے بعد سے بچی کو محفوظ جگہ پر رکھا تھا۔ میں تمام ضروری کاغذات مکمل کرنے کے لیے کام کرتا رہا تاکہ بچی کو اپنے خاندان میں سرکاری طور پر شامل کرایا جاسکے۔

خلیل السوادی نے ایک ہاتھ میں عفرا اور دوسرے میں اپنی حقیقی بیٹی عطا کو پکڑا ہوا
خلیل السوادی نے ایک ہاتھ میں عفرا اور دوسرے میں اپنی حقیقی بیٹی عطا کو پکڑا ہوا

انہوں نے بتایا کہ اب اس بچی کو گود لینے کے حوالے سے بچی کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھی کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بچی اب میرے خاندان کی رکن بن گئی ہے۔ خلیل السوادی نے اپنے ایک بازو پر گلابی کمبل میں لپٹی عفرا کو اٹھایا ہوا تھا، دوسرے بازو پر اپنی نومولود بیٹی عطا کو نیلے رنگ کے کمبل میں ڈالے ہوئے تھا۔ عطا کی پیدائش زلزلے کے تین دن بعد ہوئی تھی۔ السوادی نے کہا کہ وہ ان دونوں کی پرورش ایک ساتھ کریں گے۔انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ اس بات کی تصدیق کے لیے قانونی اقدامات کیے گئے ہیں کہ ان کی بیوی لڑکی کی پھوپھی تھی۔ اس حوالے سے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا گیا ہے۔ 6 فروری کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے شام میں 5800 سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں