ترکیہ زلزلہ

ترکیہ: زلزلے کی ’من مانی‘کوریج پر تین نشریاتی اداروں پر جرمانےعاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے میڈیا واچ ڈاگ نے ملک کے جنوبی حصے میں اس ماہ کے اوائل میں آنے والے زلزلے کی کوریج پرتین نشریاتی اداروں پرجرمانے عاید کیے ہیں۔

ہلک ٹی وی، ٹیلی ون اور فاکس نیوزچینل کو زلزلے کے ردعمل میں حکومت کی کوتاہیوں کی اطلاع دینے پرجرمانے عاید کیے گئے ہیں،ان کا تخمینہ ان کی ایک ماہ قبل کی آمدن کی بنیاد پر لگایا گیاہے۔

یہ تینوں چینل ترک صدررجب طیب ایردوآن پر تنقید میں مشہور ہیں۔حکومت پرتنقید ان چینلوں کی ادارتی پالیسی بیان کی جاتی ہے اور ہلک ٹی وی ترکیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ نے گذشتہ سال اکتوبر میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت 'جعلی خبروں' کی تشہیر پرتین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

ریڈیواورٹیلی ویژن سپریم کونسل کے نگران ادارے کے بورڈ کے رکن الہان تاسجی نے ٹویٹرپرلکھا کہ ہلک ٹی وی اور ٹیلی ون پر ان کی جنوری کی آمدن کا پانچ فی صد جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔

انھیں یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ایک روزانہ کے پروگرام کو پانچ دن کے لیے معطل کردیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ہلک ٹی وی اور فاکس ٹی وی پر بھی جنوری کے کاروبار کا تین فی صد جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ یہ تمام سزائیں ان چینلوں کی زلزلے کے بعد کے تبصروں اور خبروں کی جانچ پرکھ پر سنائی گئی ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ الہان تاسجی کو اس کونسل میں حزب اختلاف کی جماعتوں ہی نے نامزد کیا تھا۔

ترکیہ کی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ نظمی بلگن نے ان فیصلوں کو ناظرین کے خلاف’جرم‘ قرار دیا اورنگران ادارے کو 'سنسرشپ بورڈ' قراردیا ہے۔

انھوں نے الزام عاید کیاکہ ’’ان سزاؤں کے ساتھ (واچ ڈاگ) کے مجرمانہ ارکان ایک بڑا جرم کیا ہے اور وہ عوام کے خبر حاصل کرنے کے حق اور زلزلہ متاثرین کو مطلع کرنے کے حق کو نظرانداز کررہے ہیں‘‘۔

ٹیلی ون کے ایڈیٹر ان چیف مردان یاناردگ نے ان سزاؤں کو’مکمل طورپرشرم ناک‘ قرار دیا ہے۔

فرانس میں قائم تنظیم صحافیان ماورائے سرحد (رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز)کے مطابق 2022 میں آزادی صحافت کے حوالے سے ترکیہ 180 میں سے 149ویں نمبر پر تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں