سعودی تاریخ پر کنگ عبد العزیزلائبریری میں موجود نایاب غیر ملکی کتابیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری بین الاقوامی زبانوں میں 500 سے زیادہ نایاب کتابوں پر مشتمل ہے جو 1727 عیسوی میں درعیہ میں اپنی بنیاد کے آغاز سے لے کر 1932 میں شاہ عبدالعزیز آل سعود کی طرف سے مملکت سعودی عرب کے قیام تک کی سعودی تاریخ کو واضح کرتی ہے۔ کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کا ایک حصہ اس تاریخی مرحلے کا احاطہ کرنے والے سعودی ورثے کو ریکارڈ پیش کرتا ہے۔

جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے یورپی مستشرقین اور سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے لکھی گئی نایاب کتابیں درعیہ میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کے آغاز، اس خطے کی تاریخ اور اس میں رونما ہونے والے حقائق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ کتا بیں خطے کے جغرافیہ، سعودی رسم و رواج اور روایات کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔

سعودی تاریخ بیان کرتی کتب
سعودی تاریخ بیان کرتی کتب

سب سے ممتاز سیاح اور مستشرقین، جنہوں نے سعودی مملکت کے قیام سے قبل اور بعد یہاں کا دورہ کیا ، میں ایک جرمن سیاح ’’ کارسٹن نیبوہر‘‘ بھی ہیں۔ مورخین انہیں نجد کے بارے میں بات کرنے والے پہلے مغربی باشندے کے طور پر جانتے ہیں۔ اسی طرح سوئٹزلینڈ کے جوہان لڈوِگ برخارٹ ، فرانسیسی سیاح چارلس ہوپر برطانوی سیاح چارلس ڈوٹی، ڈچ سیاح کرسچن سنوک ہیں۔ اسی طرح برطانوی سیاح ولفریڈ شوین بلنٹ اور ان کی مسافر بیوی لیڈی این بلنٹ ، برطانوی سیاح ولیم گفورڈ پالگریو ، برطانوی کپتان ولیم شیکسپیئر ، آسٹریا کے مفکر محمد اسد ، برطانوی سیاح عبداللہ فلبی ، برطانوی سر انتھونی نٹنگ، امریکی جارج رینٹز، برطانوی مستشرق گرٹروڈ بیل، روسی محقق الیکسی واسیلیف اور سیاح اور محققین ہیں جن کی کتابیں لائبریری میں موجود ہیں۔

قدیم ترین نایاب کتابیں

سعودی تاریخ کو بیان کرنے والی فرانسیسی زبان کی قدیم ترین نایاب کتابوں میں سے ایک کتاب ’’ Histoire des wahabis: depuis leur origine jusqua la fin de 1809/ by L.A.‘‘ ہے۔

222 صفحوں پر مشتمل یہ کتاب 1810ء میں پیرس میں شائع ہوئی۔ اس میں درعیہ میں قیام کے آغاز، امام محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کی تاریخ، امام محمد ابن سعود کے آغاز سے لکر 1809 عیسوی تک کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

جان لیوس برکھارڈٹ کی معروف کتا ب ’’ Bedouins and the Wahhabis ‘‘ ہے۔ یہ کتاب 1831ء میں لندن میں چھپی تھی۔ جان لیوس اس کتاب میں اپنے مشرق کے سفر کے دوران جزیرہ نما عرب کے حالات کے متعلق لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں سعودی عرب کے قیام کے آغاز کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ سعودی قبائل کی تاریخ اور دیگر موضوعات کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔

ایک اور کتاب ہے جس کا عنوان "A Journey from India to Mecca" ہے۔ یہ کتاب عبدالکریم خان نے لکھی ہے۔ یہ کتاب 1797 میں پیرس سے شائع ہوئی اور 246 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

سعودی تاریخ  پر کتاب
سعودی تاریخ پر کتاب

ایک کتاب ’’ L‘Arabie contemporaine, avec la description du pelerinage de la Mecque et une nouvelle carte geographique de Kiepert / par Adolphe d‘Avril... ‘‘ ہے۔ یہ کتاب 1868 میں پیرس میں شائع ہوئی تھی۔ 313 صفحات کے دوران یہ کتاب سعودی تاریخ کی تبدیلیوں اور حج کے موسم پر بھی بات کرتی ہے۔

جرمن زبان میں مکہ المکرمہ کے بارے میں ایک کتاب شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ Makka : v. 1. Die stadt und ihre herren‘‘ ہے۔

اسے Snouck Hurgronje ‘‘ نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب 1888 عیسوی میں شائع ہوئی اور 250 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ انیسویں صدی میں مکہ مکرمہ اور المدینہ المنورہ کی تاریخ سے متعلق ہے۔

ایک اور کتاب ’’ Le loup et le leopard: Ibn-Seoud; ou, La naissance d‘un royaume / Benoist-Mechin ‘‘ کے عنوان سے بھی ہے۔

پیرس میں اس کا پہلا ایڈیشن 1901ء میں جاری کیا گیا پھر اسے 1955ء میں دوبارہ شائع کیا گیا۔ یہ 446 صفحات پر مشتمل ہے۔یہ کتاب بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی تاریخ سے متعلق ہے – 1880 سے لیکر 1953 تک شاہ عبد العزیز کی سیاسی سوچ کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسری سعودی ریاست اور اس کی اسٹیبلشمنٹ کو متحد کرنے اور اس کی تعمیر کے لیے شاہ عبد العزیز کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

کینتھ ولیمز کی تحریر کردہ ایک کتاب ’’ Ibn Sa‘ud : the puritan king of Arabia‘‘ ہے۔ یہ کتاب 299 صفحات پر مشتمل ہے اور 1933 میں لندن میں شائع ہوئی تھی۔ جیرالڈ ڈیگوری کی ایک کتاب ’’ Arabia Phoenix ‘‘ بھی کنگ عبد العزیز لائبریری کے ذخیرہ میں موجود اہم کتا ب ہے۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے مملکت سعودی عرب کے قیام سے پہلے اور بعد میں جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنے والے سیاحوں اور مستشرقین کی بہت سی کتابوں کا ترجمہ کیا تھا۔ یہ کتابیں اس وقت کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات کے محققین اور سکالرز کے لیے فائدہ مند ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں