ترکیہ: زلزلہ میں خاندان کے 70 افراد کو کھو دینے والی خاتون کی کہانی

میری ساس بھی زلزلہ میں چل بسیں، معلوم نہیں اس صورتحال پر کیسے قابو پائیں گے: اکداغ کا انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں المناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔ ایسا ہی ایک المناک واقعہ ترک خاتون ’’ اکداغ‘‘ کو بھی پیش آیا ہے۔ اکداغ نے بتایا ہے کہ اس کے خاندان کے 70 افراد اس زلزلہ میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

ترک خاتون اکداغ نے بتایا میں بچپن میں بھی زلزلے کا شکار ہوئی تھی، ہم اصل میں استنبول کے زلزلے کے بعد عدی یمن چلے گئے تھے لیکن میں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کے زلزلے کا سامنا نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے رشتہ داروں سے میں 70 افراد کو کھو دیا جن میں میری ساس بھی شامل ہیں ۔ میں بہت غمگین ہوں، اور مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس صورتحال سے کیسے نکلیں گے۔

ترکیہ کی خاتون اکداغ
ترکیہ کی خاتون اکداغ

36 سال کی اکداغ دو بچوں کی ماں ہیں۔ 6 فروری کو آنے والے زلزلے نے ترکیہ کے 11 صوبوں کو متاثر کیا تھا۔ اکداع انہیں گیارہ صوبوں میں سے ایک ’’عدی یمن‘‘ میں مقیم تھیں۔ اکداغ نے بتایا کہ وہ زلزلے کے دوران اپنی والدہ کے ساتھ عدی یمن یونیورسٹی کے عدی یمان ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ہسپتال میں علاج کے لیے جا رہی تھی۔ میرا 8 سال کا بیٹا ’’ انیل‘‘ ہسپتال میں میری ماں کے ساتھ تھا۔ ہم ہسپتال میں تھے تو زلزلہ آگیا۔ اس دوران میں اپنی والدہ کو کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر محفوظ مقام پر لے گئی۔

انہوں نے بتایا کہ زلزلہ سے میرے سسر کا گھر تباہ ہوگیا اور میری ساس بھی جاں بحق ہوگئیں۔ زلزلہ کے وقت میرے شوہر اپنے بیٹے 11 سالہ عبد اللہ کے ساتھ گھر میں تھے۔ گھر گرا تو میرے شوہر کے گردن اور کندھے میں فریکچر آگیا۔ ان کی ایک ٹانگ میں بھی فریکچر آگیا ہے۔ میں نے اپنی ماں اور دو بیٹوں کے ساتھ میونسپل بس میں دو دن گزارے۔ اس کے بعد حکام نے میری والدہ کو دارالحکومت انقرہ کے ایک ہسپتال میں منتقل کردیا۔ میں اور میرے دو بیٹے ایک پناہ گاہ میں آگئے اور وہاں سے ملک کے شمال میں واقع ترابزون منتقل ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں