30 سال بعد: اسرائیل نے صدام حسین پر ناکام قاتلانہ حملے کی تفصیلات جاری کر دیں

منصوبہ انسانی غلطی کے باعث ناکام ہوا، لائیو میزائل کا بٹن دبانے سے 5 اسرائیلی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

تل ابیب میں 1992 میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے قتل کے اسرائیلی منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی، اور اس پر عمل درآمد کے دوران پانچ کمانڈوز کے ہلاک اور پانچ فوجیوں کے زخمی ہونے کے بارے میں نئی ​​تفصیلات سامنے آئیں ہیں۔

الشرق الاوسط اخبار کے مطابق 30 ​​سال تک خفیہ رکھی جانے والی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی کہ منصوبہ "انسانی غلطی" کی وجہ سے ناکام ہوا، کیونکہ ٹریننگ کے مراحل میں اصلی اور نقلی دونوں میزائلوں کو لانچ کرنے والے بٹن ایک جیسے تھے اور افسر نے تربیتی کارڈ بورڈ میزائل کے بجائے لائیو میزائل لانچ کر دیے۔

یہ انکشاف اسرائیلی ٹیلی ویژن "چینل 13" پر نشر ہونے والی 4 گھنٹے دورانیے کی 8 اقساط پر مشتمل ایک دستاویزی سیریز میں سامنے آیا ہے، جو فوج میں ایک ایلیٹ کمانڈو یونٹ کے بارے میں ہے، جسے "جنرل اسٹاف پٹرول" کہا جاتا ہے۔ یہ یونٹ اسرائیل میں فوجی تربیت کے معیار کا اعلی نمونہ سمجھی جاتی ہے۔

الشرق الاوسط کے مطابق اس یونٹ کے فارغ التحصیل افراد میں سے کچھ ایسی شخصیات ہیں جو وزیر اعظم ، وزراء اور سیکرٹریز کے عہدے تک بھی پہنچی ہیں، جیسے بنجمن نیتن یاہو اور ایہود بارک اور دیگر۔ اگرچہ یہ سیریز بنیادی طور پر اس یونٹ کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے کے لیے ہے تاہم اس کی ناکامیوں ،خصوصا صدام کو قتل کرنے کے ناکام منصوبے، پر بھی بات کی گئی ہے۔

یہ منصوبہ 1991 میں اس وقت کے آرمی چیف ایہود بارک نے وزیر اعظم اسحق شامیر کے علم میں لائے بغیر تیار کیا تھا، جو صدام سے اسرائیل پر بمباری کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔

اس سے قبل 17 جنوری سے 25 فروری 1991 تک عراقی فوج نے تل ابیب ، حیفا اور گردونواح پر 43 سکڈ میزائل داغے تھے۔ عراقی مہم کا تزویراتی اور سیاسی ہدف اسرائیل کو جنگ میں گھسیٹنا تھا تاکہ عراق کویت جنگ کے دوران اس کے خلاف متحد ہونے والی عرب اتحادی افواج میں دراڑ پیدا ہو جائے۔

جو کچھ بعد میں تل ابیب میں سامنے آیا اس کے مطابق اسرائیل کو ایسے ہی منظرنامے کی توقع تھی اور وہ جنگ کے لیے تیار تھا لیکن امریکا نے اس پر شدید دباؤ ڈالا اور اسے روک دیا۔

39 دنوں کے اندر، اسرائیل پر حملے کیے گئے، جس میں دو اسرائیلی ہلاک، 700 کے قریب زخمی، 28 عمارتیں تباہ، اور 4,100 دیگر عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس لیے صدام حسین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔

الشرق الاوسط نے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کے بعض افسران نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کی۔ ملٹری انٹیلی جنس ڈویژن کے سربراہ اوری ساجیہ نے کہا کہ ایک عرب صدر کا قتل عربوں کو اسرائیل کے خلاف متحد کر دے گا۔ جبکہ "پٹرول فوج" کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل دورون افیتل نے کہا کہ آپریشن کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں اور اس سے فوجیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گا۔

تاہم ایہود براک نے جواب دیا کہ کویت پر حملے کی وجہ سے عرب صدام سے نفرت کرتے ہیں، اور عراق میں رضاکارارنہ جانے والے فوجیوں کو بھیجا جایا گے جنہیں متوقع خطرے سے آگاہ کیا جائے گا۔

فوج کی روایت کے برعکس، بارک نے تمام کمانڈروں کو نظرانداز کرتے ہوئے، میجر جنرل عمیرم لیفی، سابق چیف آف اسٹاف پٹرول کو آپریشن کے لیے "خصوصی ذمہ داری" سونپی۔

اس دوران صدام حسین کی حرکات و سکنات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جنگ کے بعد وہ عوام میں زیادہ نظر نہیں آئے، ان کی سرگرمیوں کو براہ راست نشر نہیں کیا گیا، اور وہ ٹھکانے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

قتل کی تاریخ کا تعین کیسے کیا گیا

اسرائیلی انٹیلی جنس پر یہ بات واضح ہوئی کہ صدام کے باربار ٹھکانے تبدیل کرنے کی کہانیاں مبالغہ آرائی پر مبنی تھیں، اور یہ بھی کہ صدام زیادہ تر مقامات پر "خود" نظر آتے ہیں۔


اسرائیل انٹیلی جنس کو یہ بھی پتہ چلا کہ وہ صدر عبد الکریم قاسم کے قتل کے واقعہ میں زخمی ہو گئے تھے اس لیے درد سے دوچار ہں۔ خاص طور پر جب وہ پستول اٹھائے ہوں تو بیلٹ کا دباؤ محسوس کرتے ہیں اس لیے وہ وقتاً فوقتاً اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ یہ اہم اشارہ تھا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وہ صدام ہی ہیں ، کوئی متبادل شخص نہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کو معلوم ہوا کہ صدام حسین کے چچا خیر اللہ طلفاح جنہوں نے ان کی پرورش کی تھی اور ان سے خصوصی محبت اور احترام رکھتے تھے ہسپتال میں بیمار ہیں۔ توقع کی گئی کہ وہ ضرور ہسپتال آئیں گے او ر فیصلہ کیا گیا کہ ان کے ہسپتال دورے کے دوران انہیں قتل کیا جائے گا۔

آپریشن کی حکمت عملی کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ قاتل دستہ اسرائیلی فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹروں پر عراق جائے گا اور دو جیپوں کے ذریعے آپریشن کی جگہ پہنچے گا ۔ وہاں سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلی حصہ ایک کیموفلاج ٹیم ہدف سے سینکڑوں میٹر کے فاصلے پر رہے گی، جب کہ دوسری ٹیم اس سے 12 کلومیٹر دور"تموز" میزائلوں کو لانچ کرنے کی ذمہ داری لے گی۔

اس ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 نومبر 1992 کو عراق پر ہونے والے مبینہ آپریشن کی مشق "نقب" میں فوجی تربیتی اڈے "بتسئلیم" پر کی گئی۔ جنرل لفین نے دیگر اہلکاروں کے ساتھ اس تربیتی مشق کی نگرانی کی۔

ٹریننگ کے دوران، پہلے حصے میں 06:10 منٹ پر لائیو فائر نہیں ہونا تھا۔ لیکن فائرنگ کے ذمہ دار عملے نے غلط بٹن دبایا، اور صدام حسین کے وفد کی نقل کرنے والے فوجیوں کے ایک گروپ پر براہ راست "تموز" میزائل داغ دیے۔
ان میزائلوں کو تربیت کے دوسرے حصے میں جگہ خالی ہونے پر چلایا جانا تھا۔ اس حادثے میں پانچ فوجی مارے گئے تھے۔

منصوبہ دو بار ناکام ہوا۔

تفصیلات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ٹریننگ کے دوران فائر کیے گئے میزائل میں صدام حسین کا کردار ادا کرنے والا فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا۔ جب وہ اپنے لیے مختص جگہ میں داخل ہوا اور صدام کے انداز میں "عوام" کی طرف ہاتھ ہلانے لگا تو غلطی سے چلایا گیا میزائل اس کے قریب گرا اور اس کی ٹانگ پر جا لگا، تاہم وہ زندہ بچ گیا، اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ دو بار ناکام ہوا۔

اگر اسے اسی طرح انجام دیا جاتا جس طرح سے منصوبہ بندی کی گئی تھی تو یہ صدام کو قتل کرنے میں بھی ناکام ہو جاتا۔

تحقیقات کے بعد کئی افسران کی سزا کے طور پر تنزلی کردی گئی۔ اور قتل کا یہ منصوبہ منجمد کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں