فلسطینی آرٹسٹ کا کمال، دھاتی سکریپ سے معاشرتی مسائل اجاگر کرنے والے فن پارے تخلیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی مصور عساف الخرطی نے دھات کے ٹکڑوں اور استعمال کے قابل نہ رہنے والے اوزاروں کو کام میں لا کر فن پارو ں میں تخلیق کرکے حیران کردیا۔ عساف الخرطی جنوبی غزہ شہر کے سکریپ یارڈز میں ضائع کردہ ایسے دھاتی ٹکڑوں اور اوزاروں کو تلاش کرتے ہیں جن کو وہ اپنے فن پاروں میں استعمال کرسکیں۔ پھر وہ ان کو استعمال کرکے شاندار دکھائی دینے والی اشیا کا روپ د ے دیتے ہیں۔

الخرطی نے بتایا کہ یہ سکریپ جسے لوگوں نے استعمال کرتے ہوئے پھینک دیا تھا میں نے اس سے ایسی اشیا بنانے کو پسند کیا جن کے ذریعے سے معاشرتی مسائل کو پیش کیا جا سکے۔ الخرطی بتاتے ہیں کہ ان کا آرٹ ورک غزہ کے اندر رہنے والے فلسطینی نوجوانوں کی روزمرہ کی زندگی اور ہجرت کرنے والوں کے مصائب کی نمائندگی کرتا ہے۔

عساف الخرطی نے واضح کیا کہ لوہے کے ہر ٹکڑے کا ایک خاص مطلب ہوتا ہے اور یہ دیکھنے والے اور کام کے درمیان ایک ربط پیدا کرتا ہے۔ لوہے اور سکریپ کے ان ٹکڑوں سے میں نے ایک سفری بیگ ڈیزائن کیا تاکہ ان نوجوانوں کے مسئلے پر روشنی ڈالی جا سکے جو ہجرت کرکے غزہ کی پٹی آئے تھے۔

خیال رہے عساف الخرطی کے فنون پر مبنی کام ملک میں رہنے والے فلسطینی عوام کے مسائل اور ہجرت کرنے والے لوگوں کے مسائل کی تصویریں ہیں۔ ان کے کام کا ہر ایک حصہ فلسطینی نوجوان، بچے یا خاندان کی کہانی کی نمائندگی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں