’’العربیہ‘‘ کی 20 ویں سالگرہ، چینل عرب ناظرین کی پہلی پسند بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

’’العربیہ‘‘ چینل نے دو دہائی قبل 3 مارچ 2003 کو اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔ اس طرح آج جمعہ کو ’’ العربیہ‘‘ اپنی 20 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔

چینل کا آغاز عرب خطے اور دنیا میں تاریخی تبدیلیوں کے ساتھ ہوا۔ اپنے آغاز کے ساتھ ہی اس وقت نوزائیدہ چینل کو پریس کے عملے اور ایک نوجوان ادارتی ٹیم کے ساتھ عراق کے خلاف جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ چینل نے واقعات کو مؤثر طریقے سے اور قابلیت کے ساتھ پیش کیا اور دنیا میں بدلتے حالات کے ساتھ اپنی رفتار برقرار رکھی۔

’’العربیہ‘‘نے آغاز میں ہی ’’ سچائی کے قریب ترین‘‘ کے نعرہ کا انتخاب کرلیا تھا۔ چینل پہلے دن سے اپنے اسی نقطہ نظر کی بھرپور پیروی کرتا آرہا ہے۔ عرب ناظرین کے لیے ’’العربیہ‘‘کی نشریات میں ایک دیانتدارانہ نقطہ نظر کی وابستگی شامل ہے۔ یہ نشریات ذمہ دارانہ کلام، تصدیق شدہ خبروں اور تعصب سے آزاد تجزیوں کو سموئے ہوئے ہے۔ یہاں درست اور آزادانہ وضاحت پیش کی جاتی ہے۔

اپنے بیس سال کے دوران ’’العربیہ‘‘ صحافیوں اور تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کے ساتھ خبروں کا ایک قابل اعتماد ذریعہ بن گیا ہے۔ العربیہ کی ٹیم کے افراد واقعات سے باخبر رہتے اور انہیں بروقت عرب ناظرین تک پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

چینل کی 20 ویں سالگرہ کی مناسبت سے العربیہ نیٹ ورک کے جنرل مینیجر ممدوح المھینی نے کہا "العربیہ‘‘ ان سالوں کے دوران ان بڑی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہنے میں کامیاب رہا جو عرب دنیا اور دنیا میں وقوع پذیر ہو رہی تھیں۔

’’العربیہ‘‘ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی چوبیس گھنٹے کی ایک نیوز سروس ہے اور اب دنیا میں ایک بڑا اور قابل اعتماد برانڈ بن گیا ہے ۔ یہ چینل میڈیا انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی ہمیشہ متحرک رہا ہے۔

مربوط نیٹ ورک

ممدوح المھینی نے مزید بتایا کہ چینل نے ایک مربوط نیوز نیٹ ورک بننے کے لیے اپنی توسیع پر بھی کام کیا اور اب اس نیٹ ورک میں العربیہ چینل اور الحدث چینل شامل ہیں ۔ یہ نیٹ ورک چوبیس گھنٹے نیوز بلیٹن فراہم کرتا ہے ۔ یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ایک گروپ ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے ۔ ارد گرد کے لاکھوں لوگ اس نیٹ ورک سے تعامل کرتے اور اس کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر العربیہ نیٹ ورک کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً 180 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ایڈیٹوریل ٹیم اور چینل کے نامہ نگاروں کے ذریعہ تیار کردہ مواد ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ آراء یا تبصرے حاصل کرلیتا ہے۔ اس حوالے سے عرب ناظرین کے لیے عرب یہاں تک کے بین الاقوامی نیوز چینلز میں بھی ’’ العربیہ‘‘ سب سے آگے ہیں۔

اہم واقعات کی بے مثال رپورٹنگ

’’العربیہ‘‘ چینل نے دنیا کو پیش آنے والے اہم واقعات جیسے سال 2020 کے آغاز میں کورونا کی وبا کو کور کرنے اور خبروں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے میں اور بہت سی تحقیقات اور خصوصی مکالمے مکمل کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عالمی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکی انخلاء اور ملک پر طالبان کے کنٹرول اور یوکرینی جنگ کے واقعات کی رپورٹنگ میں بھی ’’ العربیہ‘‘ نمایاں سروس فراہم کرتا رہا۔

چینل کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ممدوح المھینی نے کہا کہ اس جشن کا نعرہ ’’ مزید‘‘ کے معنی پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنےآپریشنز کے آغاز اور سعودی دارالحکومت ریاض سے اس کی نشریات کی توسیع کے بعد چینل کی ترقی اور توسیع کی کوئی حد نہیں ہے۔

اس ترقی اور جدیدیت میں مواد کی تیاری کے وہ تمام مراحل شامل ہیں جو ’’العربیہ‘‘ میں اپنائے جاتے ہیں ۔ اب بھی ’’ العربیہ‘‘ وہی طریقے اپنا رہا ہے جس سے یہ بڑے نیوز سٹیشنوں پر سبقت لے جاتا ہے۔ العربیہ اور الحدث کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ العربیہ نیٹ ورک نوجوانوں کے گروپوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تیار کردہ معیاری مواد فراہم کرتے ہوئے شروع ہوا ہے ۔ یہ نئی نسلوں کی ضروریات کے مطابق علم اور خبریں فراہم کرتا رہے گا۔

العربیہ سے تعلق پر اظہار فخر کا موقع

العربیہ اور الحدث کے ڈائریکٹر جنرل ممدوح المھینی نے مزید کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ ہماری ٹیم العربیہ خاندان سے تعلق رکھنے پر اظہا فخر کر رہی ہے۔ یہ وہ چینل ہے جو ’’ایم بی سی ‘‘گروپ کی جانب سے قائم کردہ ٹھوس روایات پر مبنی ایک مثالی کام کے ماحول کو پسند کرتا ہے۔ اس وقت یہ چینل مشرق اور عرب دنیا میں سب سے اہم میڈیا گروپ کی نمائندگی کر رہا ہے۔

ممدوح المھینی نے مزید کہا میں اس موقع پر ان ساتھیوں کی روحوں کے لے بھی دعا گو ہوں جو ’’العربیہ‘‘ کے سفر کے دوران کھو گئے ہیں اور جنہوں نے مختلف تنازعات والے علاقوں میں سچائی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے درمیان ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ہمارے دلوں میں بستے ر ہیں گے۔ ان بیس برسوں میں ہمارے کارکنوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کچھ کو اغوا کیا گیا، کچھ کو قید کرلیا گیا۔ ارکان کو طرح طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہ پیغام پھیلانے کے اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں