اعلیٰ امریکی جنرل کا دورہ اسرائیل، ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف تعاون پر اتفاق رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل نے جمعے کو اعلیٰ امریکی فوجی افسر، جنرل مارک ملی کے دورے کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے تعاون کی ضرورت ہے۔

جنرل ملی نے یہ غیر اعلانیہ دورہ پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن کے اسرائیل کے دورے سے پہلے کیا ہے جس میں پڑوسی ممالک مصر اور اردن بھی شرکت کریں گے جو کہ اسرائیل-فلسطین کے معاملات پر اثر و رسوخ رکھنے والی امریکہ کی اتحادی عرب ریاستیں ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے دفتر کے مطابق انہوں نے امریکی جنرل ملی سے کہا کہ "ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تعاون جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔"

ملی کے ترجمان کرنل ڈیو بٹلر نے کہا کہ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے خطے کو درپیش بہت سے چیلنجز اور مواقع سے نمٹنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا " تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کی تجدید کے حوالے سے بات چیت طویل عرصے سے تعطل کا شکارہے۔ مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران نے اس دوران ایسی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کی ہے جو ممکنہ طور پر اسے ہتھیار بنانے کے قریب لا سکتی ہے۔
تاہم ایران ایسے کسی منصوبے کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں