سعودی بچے ابراہیم العنزی کی وہیل چیئر پر رونالڈو سے ملاقات، سعودیوں میں خوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے پُر عزم بچے ابراہیم العنزی نے سعودیوں کو خوش کردیا جب وہ النصر کلب کے میچ سے قبل اپنا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اپنے پسندیدہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو سے ملنے میں کامیاب ہوگیا۔ ابراہیم العنزی کی اس ملاقات کی انٹرنیٹ پر صارفین نے خوب تعریف کی۔ پانچ سالہ بچہ ابراھیم العنزی پیدائشی طور پر مفلوج ہے۔ بچے کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ابراہیم العنزی کے رشتہ دار نواف العنزی نے ایک ویڈیو وائرل کی جس میں ابراہیم العنزی نے سعودی انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کونسلر ترکی آل الشیخ سے اپیل کی کہ اس کے لیے میچ میں شریک ہونے کی راہ نکالی جائے۔

نواف العنزی نے ’’العربیہ ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ ویڈیو کے چند گھنٹے بعد آل الشیخ نے ان سے ٹویٹ پر بات چیت کی، ترکی آل الشیخ نے انہیں مختصر جملہ کے ساتھ جواب دیا اور کہا ’’ سر آنکھوں پر ، یہ مت کہیں کافی ہے، آپ حکم کریں‘‘ ۔ بچے اور اس کے اہل خانہ کو انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین کے دفتر کے ذریعہ ریاض منتقل کرنے کیا گیا۔

بچے کی انتہائی خوشی

نواف العنزی نے بتایا کہ "مرسول پارک سٹیڈیم" کا دورہ کرنے، النصر کے میچ میں شرکت اور سٹار کرسٹیانو رونالڈو سے ملنے پر ابراہیم العنزی نے زبردست خوشی کا اظہار کیا۔

ابر اہیم العنزی نے ترکی آل الشیخ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ویڈیو بھی جاری کی۔ ویڈیو میں سعودی بچے نے کہا ’’ بابا الترکی۔ آپ نے میرا مرسول پارک سٹیڈیم جانے کا خواب پورا کیا ، آپ کا شکریہ‘‘

زبردست اتفاق

اپنی طرف سے ابراہیم العنزی کے والد نے وضاحت کی کہ ان کا بیٹا ہاتھوں اور پیروں کی معذوری کا شکار ہے اور وہ خصوصی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اسے جسمانی علاج اور آپریشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اپنی معذوری کے باوجود ہم حیران تھے کہ ابراہیم نے خود ٹک ٹاک کے ذریعہ اکاؤنٹ کھولا اور ایک کلپ شائع کیا جس میں ترکی الشیخ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’’ النصر‘‘ کے میچ میں شرکت کریں اور رونالڈو کو سلام پیش کریں۔ ہم اپنے بیٹے کی ویڈیو کلپ میں اپیل پر اور کونسلر کی بات چیت سے حیران رہ گئے۔ اس پر میں نے اور میری اہلیہ نے کینسر ہونے اور صحت کی خرابی کے باوجود ریاض پہنچنے اور میچ میں شرکت کے اس کے خواب کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے چانسلر ترکی الشیخ نے کل اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ابراہیم کی تصویر کے ساتھ ایک سوالیہ نشان کے ساتھ ایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا جس میں پوچھا گیا تھا: "کیا آپ خوش ہیں؟" ۔ اس تصویر پر زبردست رد عمل سامنے آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں