جانیے دو منٹ میں گہر ی نیند لانے کا فوجی طریقہ

سائنسی طور پر تجربہ شدہ طریقہ جو آپ کو زیادہ پیداواری، مرکوز توجہ والا اور توانائی سے بھرپور بنانے میں مدد کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صرف چھ گھنٹے کی نیند لینا کسی بھی کام کو زیادہ مشکل بنا دیتا ہے۔ کاموں کے لیے توجہ مرکوز کرنے اور گہری سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم نیند کی وجہ سے ان کاموں کو انجام دینا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل 2018 کی ایک تحقیق میں پتا چلا تھا کہ جو لوگ پانچ سے چھ گھنٹے سوتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں 19 فیصد کم پیداواری ہوتے ہیں جو روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے سوتے ہیں۔ اور جو لوگ پانچ گھنٹے سے کم سوتے ہیں وہ تقریباً 30 فیصد کم پیداواری ہوتے ہیں۔

انکارپوریٹڈ نے رپورٹ کیا ہے کہ بنیادی تربیت میں ہر سپاہی صبح 5 بجے اٹھتا ہے اور رات 9 بجے بستر پر جاتا ہے۔ یہ ایک معمول ہے جو نیند کے نظم و ضبط کا داخلی نقطہ ہے۔ یہ ایک مشق ہوتی ہے جس کے ذ ریعہ نیند کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس مشق کے مطابق سویا جاتا ہے اور اس کی مسلسل پیروی کی جاتی ہے۔

تربیت اور حکمت عملی کے ماحول میں نیند کی منصوبہ بندی ایک بنیادی قائدانہ صلاحیت ہے۔ حالات بعض اوقات اس کے بر خلاف کا حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ ہر 24 گھنٹے میں سات سے نو گھنٹے کی نیند لینا ضروری ہوتا ہے بصورت دیگر آسان کام بھی مشکل سے انجام پا سکتے ہیں۔

نیند کا نظم و ضبط کام، رشتوں، خاندان اور فارغ وقت کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اگر کسی کے پاس ان تمام کاموں کو کرنے کے لیے بہت زیادہ توانائی نہیں ہے تو وہ ناکام ہو جائے گا یا کم از کم انہیں صحیح طریقے سے نہیں کر پائے گا۔ جب ایک شخص کو ہر رات کافی نیند نہیں آتی ہے تو یہ صورت اس شخص کی زندگی کے ہر پہلو میں کام کاج پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

سونے کے لیے ایک مخصوص وقت کا انتخاب کرنا اکثر کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ پہلے ایک مخصوص تاریخ کا انتخاب کیا جائے جس میں تمام ڈیوائسز چاہے ٹی وی، فون ہو یا کمپیوٹر، بند ہو جائیں اور پھر لائٹس بند کر دیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ وقت طے کیا جائے تاکہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند حاصل کر سکے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو صبح 6 بجے اٹھنے کی ضرورت ہے تو بلاشبہ اسے جلد سے جلد سونے کے وقت کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ جب تک وہ مکمل طور پر تھکا ہوا نہ ہو اسے فوراً نیند نہیں آئے گی۔

اگلا مرحلہ نیند کے بارے میں سوچنا یا سونے کی کوشش کرنا نہیں ہے بلکہ صرف آرام کرنا اور دماغ کو خاموشی سے بھٹکنے دینا ہے۔ اور اگر اسے سونے میں کافی وقت لگتا ہے تو کوئی بات نہیں۔ پھر وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اگلے دن درمیان میں کوئی نیند نہ لے تاکہ اگلے دن بھی اسی وقت سو نے کے لیے تیار ہوجائے۔ یہ اس کا سونے کا وقت نہیں بلکہ بستر کی تیاری کا وقت سمجھا جائے گا۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ اس کا جسم اس وقت کو نیند کے لیے اپنانا شروع کردے گا۔

فوجی طریقہ

آپ سونے کے لیے "فوج طریقہ " کو بھی آزما سکتے ہیں۔ یہ دو منٹ کی پری فلائٹ روٹین ہے جو یو ایس نیول کالج نے پائلٹوں کو سونے میں مدد کے لیے وضع کیا تھا جس کے نتیجے میں چھ ہفتوں کے اندر 96 فیصد پائلٹ دو منٹ یا اس سے بھی کم میں سو گئے تھے۔ ان کے سونے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی تھی چاہے وہ ایک بینچ پر بیٹھے ہوں، مشین گن کی فائرنگ کی ریکارڈنگ سن رہے ہوں اور صرف ایک کپ کافی پی رہے ہوں۔

1۔ چہرے کا مکمل سکون: آہستہ اور گہرا سانس لیتے ہوئے آنکھیں بند کریں۔ اس کے بعد چہرے کے تمام پٹھے آہستہ آہستہ آرام دہ ہوتے ہیں۔ پیشانی کے پٹھوں سے شروع ہو کر جبڑوں اور گالوں سے ہوتے ہوئے۔ اس کے بعد منہ اور زبان آرام دہ ہوجاتی ہے۔

2۔ کندھے اور بازوؤں کو آرام دینا: کسی بھی تناؤ سے چھٹکارا پانے اور چہرے اور گردن کے پٹھوں کو آرام دینے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے آدمی سیٹ یا بستر میں دھنس رہا ہو۔ پھر اپنے دائیں بازو کے اوپری حصے سے شروع کرتے ہوئے۔ آہستہ آہستہ اپنے بازوؤں اور ہاتھوں کو آرام دہ کرنا ہے۔ انہی اقدامات کو بائیں جانب دہرائیں۔ آہستہ اور گہرائی سے سانس لینے کے تسلسل کو مدنظر رکھیں۔

3۔ سینے میں آرام: یہ آہستہ اور گہری سانس کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔

4۔ ٹانگوں کو آرام دینا: دائیں ران سے شروع ہو کر، پھر گھٹنے اور ٹخنے۔ پاؤں اور اس کی انگلیوں تک کو آرام دہ کرنا ہے ۔ پھر بائیں ٹانگ کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں۔

5۔ دماغ کو پرسکون کرنا : کسی بھی چیز کے بارے میں نہ سوچنا مشکل ہے لیکن ہر رات ایک معمول پر قائم رہنے سے فائدہ ہوگا۔ سوچنے کی تکنیک کو ذہن میں ایک آرام دہ تصویر کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اندھیرے میں آرام سے لیٹے ہوئے تصور کرنا۔ اس صورت میں کہ یہ کام نہیں کرتا ہے۔ فقرے "سوچنا نہیں ہے" کو 10 سیکنڈ تک دہرایا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نظم و ضبط کے ساتھ مشق کامیابی کے حصول کی کلید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں