جی سی سی تن خواہ گائیڈ 2023:یواے ای،سعودی عرب میں اُجرت، بھرتی اوربونس کے رجحانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب میں ہرپانچ میں سے چارملازمین 2023 میں اپنی کمپنیوں سے بونس کی توقع کر رہے ہیں جبکہ مملکت میں دس میں سے نو کاروباری ادارے اس سال نئے عملہ کی بھرتی کا ارادہ رکھتےہیں۔

اس بات کا انکشاف بھرتی کے ماہرین پرمشتمل کمپنی’ہیزمڈل ایسٹ‘نے اپنی نئی رپورٹ میں کیا ہے۔اس نے اپنی جی سی سی تنخواہ گائیڈ 2023 جاری کی ہے۔اس میں خطۂ خلیج میں 13 صنعتوں میں 400 سے زیادہ کرداروں کے لیے بھرتی کے رجحانات اور تن خواہ کے اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں۔

یہ گائیڈ ماہرین کی بصیرت اور 2،000 سے زیادہ آجروں اور پیشہ ور افراد کے سروے کے تجزیے پر مبنی ہے۔سے پتا چلتا ہے کہ عالمی رکاوٹوں کے باوجود ، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک مسلسل سرمایہ کاری اور تنوع کے ساتھ مستحکم ہیں۔اس کے نتیجے میں 2023 میں لیبر مارکیٹ میں تیزی آئے گی ، جس سے خطے میں متعدد شعبوں اورجغرافیائی علاقوں میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی سی سی کے ممالک کووِڈ 19 وبائی امراض کے معاشی اثرات کو م کرنے میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔2021ء میں ہیزکمپنی نے ایک مستحکم وبائی صورت حال اور کاروباری اعتماد میں واپسی کی اطلاع دی تھی۔

اس کے نتیجے میں 2022 میں بھرتیوں میں تیزی آئی ، جس کی سطح قریباًتین سال میں سب سے زیادہ بڑھ گئی - سروے میں حصہ لینے والے 67 فی صد آجروں کا کہنا ہے کہ 2022 میں ان کے ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوا ، جبکہ 2021 میں 40 فی صد اور 2020 میں صرف 19 فی صد اضافہ ہوا تھا۔

2023ءمیں بھرتیاں

جی سی سی میں، 85 فی صد آجر 2023 میں نئے مستقل ملازمین کی بھرتی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔تاہم ، 45 فی صد پیشہ ورافراد تنظیموں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔بہترین ٹیلنٹ کے لیے زیادہ مقابلہ کی توقع کی جاناچاہیے۔

ہیزنے کہا کہ آجر مسابقت کا مقابلہ کرنے کے لیے لچکدار کام کے اختیارات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گائیڈ سے پتاچلتا ہے کہ جی سی سی میں صرف 49 فی صد تنظیمیں اس وقت کام کا ریموٹ یا ہائبرڈ(دفتراورگھر سے کام)اختیار پیش کرتی ہیں۔

دریں اثنا، پیشہ ور افراد نئی ملازمت کی تلاش میں کام اور زندگی کے توازن اور لچکدار کام کو اوّلین ترجیح دیتے ہیں۔

سعودی عرب میں رجحانات

سعودی عرب میں 79 فی صد ملازمین کو 2023 میں تن خواہوں میں اضافے کی توقع ہے اور70 فی صد نے اس سال کے معاشی نقطہ نظر کے بارے خوش امیدی کا اظہارکیا ہے۔

آدھے سے زیادہ (54 فی صد) آجر اب اپنے عملہ کو لچکدار، ریموٹ یا ہائبرڈ کام کی پیش کش کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں کاروبار تیزی سے فروغ پارہا ہے اور 89 فی صد کاروبار 2023ء میں نئی بھرتی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امارات کے لیے پیشین گوئی

دریں اثنا، یواے ای کے لیے تصویر بھی اتنی ہی روشن نظر آتی ہے، جہاں 74 فی صد ملازمین تن خواہوں میں اضافے کی توقع کرتے ہیں اور 65 فی صد معاشی نقطہ نظر کے بارے میں پُرامید ہیں۔

ان میں سے نصف نے کہا کہ ان کے آجر لچکدار کام کی پیش کش کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تر فرموں (85 فی صد) نے یہ بھی کہا کہ وہ 2023 میں اپنے عملہ کے کوٹے کو بڑھانے پرغورکررہے ہیں۔

اماراتی اور سعودی شہریوں کے لیے نوکریاں

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں قومیانے کے لیے قانون سازی میں جاری اپ ڈیٹس سے مقامی پیشہ ور افراد کے لیے مسابقت میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ غیرملکی مزدوروں کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت، یواے ای میں 43 فی صد تنظیمیں اماراتیوں کو ملازمت دیتی ہیں۔

جنوری 2023 میں نئے اماراتی حکم نامے کے نافذ العمل ہونے کے بعد یواے ای میں قائم 49 فی صد تنظیمیں اگلے 12 مہینوں میں اماراتیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

سعودی عرب میں اس وقت 91 فی صد ادارے سعودی شہریوں کو ملازمت دیتے ہیں اور 87 فی صد رواں سال اپنے ملازمین کی تعداد میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہیز نے کہا کہ مستقبل میں کامیابی کے لیے مہارت کے عدم توازن کو حل کرنا ضروری ہے کیونکہ جی سی سی میں آجروں اور ملازمین کےاپنے اداروں کے اندر ٹیلنٹ کی دستیابی کے بارے میں مختلف تصورات ہیں۔

82 فی صد ملازمین کا خیال ہے کہ ان کے پاس 2023 میں اپنے کردار کو پورا کرنے کے لیے ضروری مہارت ہے جبکہ صرف 35 فی صد آجر اس بات سے متفق ہیں کہ ان کے پاس آنے والے سال کے لیے ضروری ٹیلنٹ ہے۔

گائیڈ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی ملازمتوں کے لیے سب سے زیادہ فعال صنعتی شعبہ ہے ،گذشتہ سال 77 فی صد تنظیموں نے ڈیٹا ، سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ سلوشنز جیسے فوکس شعبوں میں مستقل مقامی اورغیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی بدولت اپنے ملازمین کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

ملازمین کے لیے سب سے زیادہ قابل قدر تین فوائد میں تن خواہ کے علاوہ لچکدار کام، بچوں کی تعلیم کاالاؤنس اور فضائی سفر کا ٹکٹ الاؤنس شامل ہیں۔

مستقبل کے لیے بچت

زیورخ انٹرنیشنل لائف کی جانب سے رواں ہفتے جاری کردہ ایک علاحدہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مکینوں کی اکثریت اپنے سالانہ بونس کواپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سروے میں مختلف آمدنی والے گروپوں، قومیتوں، پیشوں، مختلف عمر اور جنس سے تعلق رکھنے والے 1،200 رہائشیوں سے سوالات پوچھے گئے تھے۔اس میں پایا گیا کہ 82 فی صد جواب دہندگان اپنے بونس کو جائیداد، بچوں کی تعلیم، ریٹائرمنٹ کی بچت اور لائف انشورنس جیسی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سروے کے مطابق 31 فی صد جواب دہندگان کو 5،450 ڈالر تک کا بونس ملا جبکہ 12 فی صد کو 13،600 ڈالر تک کا بونس ملا۔ زیادہ تر جواب دہندگان کے لیے پراپرٹی میں سرمایہ کاری اوّلین ترجیح تھی ، 24 فی صد جواب دہندگان نے اشارہ کیا کہ یہ ان کی ترجیحی سرمایہ کاری کا انتخاب تھا۔

ریٹائرمنٹ کی بچت اورقرضوں کی ادائی بھی ترجیحی فہرست میں سب سے اوپر تھی ، 17.6 فی صد اور 15 فی صد جواب دہندگان نے اشارہ کیا کہ وہ بالترتیب ان مقاصد کے لیے اپنے بونس کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بچوں کی تعلیم کے لیے بچت اور لائف انشورنس بھی مقبول انتخاب تھے، 14 فی صد اور11 فی صد جواب دہندگان نے اشارہ کیا کہ وہ بالترتیب مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں