خواتین کا عالمی دن: نمایاں سعودی خواتین،جنھوں نے آنے والی نسلوں کے لیے راہ ہموارکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کی خواتین نے سیاست، کاروبار، تعلیم اور فنون لطیفہ میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور مملکت کی شاندارتاریخ اور ثقافت میں اہم کردارادا کیا ہے۔

العربیہ نے سات نمایاں سعودی خواتین کامختصر احوال مرتب کیا ہے جنھوں نے 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پردقیانوسی تصورات کو توڑا ہے اوربعد میں آنے والی نسلوں کو اپنے نقش قدم پر چلنے کی راہ ہموار کی ہے اور ان کا تمام ممکنہ رکاوٹوں پاش پاش کردیا ہے۔

سفیروں اور سائنس دانوں سے لے کر فلم سازوں اور ایتھلیٹس تک، ان خواتین نے ثابت کیا ہے کہ ان کی صنف کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں اور یہ کہ سعودی عرب کی خواتین ایک ایسی قوت ہیں جن کا شمار کیا جا سکتا ہے۔چند نمایاں سعودی خواتین اورزندگی کی دوڑ میں ان کی کامیابیوں کی تفصیل حسب ذیل ہے:

شہزادی ریما بنت بندر

شہزادی ریما بنت بندرسعودی عرب کی پہلی خاتون سفیر ہیں۔انھوں نے یہ عہدہ 2019 میں اس وقت سنبھالا تھا جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان کے نائب کی حیثیت سے شاہی فرمان کے ذریعے انھیں امریکا میں مملکت کی سفیرمقرر کیا تھا۔

وہ سعودی فیڈریشن برائے کمیونٹی اسپورٹس کی سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔اس حیثیت میں انھوں نے کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے کام کیا۔

2۔ رھا محرق

رها محرق 2013 میں دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی سب سے کم عمرعرب اور پہلی سعودی خاتون تھیں۔خود کو 'عالمی خانہ بدوش' قرار دینے والی رها محرق نے دنیا کی دیگر چھے بلند چوٹیاں بھی سرکی ہیں۔

3۔ ڈاکٹر حیاۃ السندی

ڈاکٹرحیاۃ السندی (سندھی) ایک بائیو ٹیکنالوجسٹ اور طبی سائنس دان ہیں۔انھوں نے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں کردارادا کیا ہے۔

انھوں نے تپ دق اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے علاج کی غرض سے سستے اور تشخیصی آلات تیار کرنے کے لیے کام کیا ہے۔وہ اسلامی ترقیاتی بینک کے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے صدر کی مشیراعلیٰ بھی ہیں۔انھیں بی بی سی کی 2018 کی ٹاپ 100 خواتین میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

4۔مریم بن لادن

سعودی تیراک اور ڈینٹسٹ مریم بن لادن سعودی عرب سے تیرکرمصر پہنچی تھیں۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی عرب اور سعودی خاتون بن گئی تھیں۔

مریم بن لادن نے شارک کے خطرے کے باوجودبحیرہ احمر کو عبور کرتے ہوئے مصر میں کوپ 27 کانفرنس کی جگہ تک تیرتی ہوئی پہنچی تھیں تاکہ مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔وہ خاص طورپرآب وہوا کی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بن لادن شامی پناہ گزینوں کی وکیل بھی ہیں۔اس سے قبل انھوں نے شامی پناہ گزین بچوں اوران کے مصائب کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے تیراکی کے ریکارڈ توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

سنہ 2015 میں وہ یورپ سے ایشیا تک ترکی میں 4.5 کلومیٹر کا ہیلیسپونٹ سوم مکمل کرنے والی پہلی عرب خاتون بن گئیں۔

5۔ مشاعل الشميمری

ایرو اسپیس انجینئر مشاعل الشميمری ناسا میں شامل ہونے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔ان کی ماسٹر ڈگری کی تعلیم کے دوران میں ناسا مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر نے نیوکلیئر تھرمل راکٹس پران کی تحقیق کے لیے بھی مالی اعانت فراہم کی تھی۔اس میں انسانوں کو مریخ تک پہنچانے کے مقصد کے ساتھ جوہری میزائل کے ڈیزائن کے پہلوؤں پرغور کیا گیا۔

ستمبر2022 میں، مشاعل الشميمری کو بین الاقوامی خلاباز فیڈریشن (آئی اے ایف) کے نائب صدور میں سے ایک کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔وہ اس طرح کے قائدانہ عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سعودی خاتون بن گئی تھیں۔

6۔ڈاکٹر ماہا المزینی

ڈاکٹر ماہا الموزینی سعودی عرب میں پہلی ایچ آئی وی / ایڈز لیبارٹری کی بانی ہیں اور انھوں نے ایچ آئی وی اور کووِڈ 19 سے منسلک مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے ،جس میں کم لاگت ، تیز رفتار ٹیسٹنگ کا نظام بھی شامل ہے۔

الریاض کے شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اورریسرچ سنٹرمیں سائنس دان کی حیثیت سے انھوں نے ہارورڈ میڈیکل اسکول سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور مدافعتی مریضوں اور متعدی امراض میں مہارت رکھتی ہیں۔

7۔ ہيفاء المنصور

سعودی ہدایت کارہ ہیفاء المنصور اداکارہ وعد محمد کے ساتھ وینس فلمی میلے میں اپنی فلم وجدہ کے شو کے موقع پر ۔ فائل تصویر۔
سعودی ہدایت کارہ ہیفاء المنصور اداکارہ وعد محمد کے ساتھ وینس فلمی میلے میں اپنی فلم وجدہ کے شو کے موقع پر ۔ فائل تصویر۔

سعودی عرب کی فلم ساز ہيفاءالمنصور نے اپنی فیچر فلم’وجدہ‘ کی ریلیز کے بعد مملکت کی پہلی خاتون ہدایت کار بن کر دقیانوسی تصورات کو توڑ دیا ہے۔

وجدہ مکمل طور پر سعودی عرب میں شوٹ کی جانے والی پہلی فیچر فلم تھی اور بہترین غیرملکی زبان کی فلم کے زمرے میں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے پیش کی جانے والی مملکت کی پہلی پروڈکشن تھی۔

المنصور نے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول "نیپیلی ایور آفٹر" پر مبنی فلم کی ہدایت کاری کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں