خواتین کا عالمی دن : پچھلے 5 سال میں سعودی خواتین کا معیار زندگی کتنا بدلا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پچھلی دہائی کے دوران بہت سی سعودی خواتین نے لائم لائٹ میں قدم رکھا۔ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے گزشتہ چند سالوں میں اصلاحات کے نفاذ کے بعد سے تقریباً ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنائی گئی۔

سعودی عرب کی افرادی قوت کا بڑا حصہ اس وقت خواتین پر مشتمل ہے جو روایتی طور پر مردوں کی بالادستی سمجھی جانے والی صنعتوں میں اپنی صلاحیتیں منوا رہی ہیں اور قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔

پوری دنیا کی طرح سعودی عرب میں بھی خواتین کا عالمی دن ان کی جدوجہد کو تسلیم کرنے اور کامیابیوں کو منانے کا موقع بن گیا ہے۔

اس دن کی مناسبت سے کنگ عبدالعزیز سینٹر فار نیشنل ڈائیلاگ نے سعودی خواتین کے معیار زندگی میں بہتری کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیق کی۔

اس جائزے میں 2,464 سعودی خواتین شامل تھیں۔ جنہوں نے تصدیق کی کہ خواتین کا معیار زندگی 5 سال پہلے کی نسبت بہتر ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق، 95 فیصد خواتین نے بتایا کہ ان کا آج کا معیار زندگی پہلے سے بہتر ہے۔

مرکز کے نائب سربراہ عبداللہ الفوزان نے بتایا کہ خواتین کی اکثریت نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگلے پانچ سال سعودی خواتین کے لیے سب سے بہترین ثابت ہوں گے۔

جائزے کے مطابق تمام ملازمتوں میں خواتین کا حصہ 35 فیصد ہو چکا ہے، جب کہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 20 فیصد رہ گئی، اور اعلیٰ اور متوسط عہدوں پر خواتین کی شرکت اندازاً 39 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔


خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تاریخی فیصلے

2017 کے بعد سے، خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششیں بڑھی ہیں۔ 2018 میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کا تاریخی فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ہراساں کرنے کا قانون بھی منظور کیا گیا۔ اس دوران کئی تاریخی فیصلے کئے گئے۔ اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے اسپورٹس ، خاندانوں کو اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ دیکھنےکی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ سعودی خواتین کو اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے کی بھی اجازت دی گئی۔ اور مملکت کی تاریخ میں پہلی بار خاتون پائلٹ کو لائسنس دیا گیا۔

خواتین سفیروں کی تعیناتی

2019 میں پہلی بار ایک سعودی خاتون نے"سفیر" کا عہدہ سنبھالا۔ شہزادی ریما بنت بندر السعود کو واشنگٹن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا۔

آمال یحیی المعلمی مملکت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی تاریخ میں اپنے ملک کے سفارتی عہدے کی نمائندگی کرنے والی دوسری خاتون ہیں۔ انہیں ناروے میں سعودی عرب کی سفیر مقرر کیا گیا۔

ھیفاء الجدیع کو یورپی یونین اور یورپی اٹامک انرجی سوسائٹی میں مملکت کے مشن کا سفیر اور سربراہ بھی مقرر کیا گیا۔ نسرین الشبل کو فن لینڈ میں اور ایناس بنت احمد الشہوان کو سویڈن میں سفیر مقرر کیا گیا۔

شوریٰ کونسل میں 20% نمائندگی

اس کے علاوہ سعودی خواتین کو ملک میں کلیدی عہدوں کو سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں۔

1434 ہجری میں شوریٰ کونسل کی 20 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے کا شاہی فرمان جاری کیا گیا تھا۔

میونسپلٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، اور دیگر سرکاری تقرریوں کے ساتھ ساتھ خواتین کوکئی سرکاری اور نجی اداروں میں کلیدی عہدوں پر تعیناتی کی اجازت بھی دی گئی۔

ویژن 2030 کے تحت متعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے خواتین کی سماجی اور معاشی میدانوں میں شمولیت بڑھائی جائے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی صدر ڈاکٹر ہلا بنت مزید التویجری کے مطابق حالیہ برسوں میں ویژن 2030 کے تحت ملازمتوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے اسٹریٹجک ہدف کو اپنانے اور 2021 میں صنفی توازن کا مرکز قائم کرنے کے بعد سے خواتین کو بااختیار بنانے کے میدان میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

ان کوششوں کے نتیجے میں، 2017 سے 2022 کے دوران ملازمتوں میں خواتین کا حصہ 21.2 فیصد سے بڑھ کر 34.7 فیصد ہو چکا ہے۔

خواتین کی اقتصادی شراکت کی شرح 17% سے بڑھ کر 37% ہوگئی ہے، جبکہ 2017 سے 2021 کے دوران انتظامی عہدوں میں خواتین کی نمائندگی کا تناسب 28.6% سے بڑھ کر 39% ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں