کیا 2023 میں ترکی کے ’سلطان‘ ایردوان کی حکومت ختم ہو جائے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

رجب طیب ایردوان نے اپنے سیاسی کیرئیر میں ہر الیکشن جیتا، دو دہائیوں تک ترکیہ کی سیاست پر چھائے رہے، اور ترکیہ کی تاریخ کے سب سے طاقت ور رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

مگر آئندہ انتخاب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ جو ان کے تیسری مدت کے لیے صدر بننے کے خواب اور دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ان کے متاثر کن قومی اور سیاسی کیریئر کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

ان کا بس چلے تو وہ اپنی آخری سانس تک، جدید دور کی عثمانی سلطنت کے سلطان ہوتے۔

اگرچہ وہ قومی عقیدت کے لیے خود کو سلطان کہتے ہیں لیکن تجزیہ کار اور سیاست دان "سلطان" کی اصطلاح کو طاقت کے ارتکاز اور جمہوری اصولوں اور اداروں کو نظر انداز کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ترکیہ اور کرد علاقوں پر گہری نظر رکھنے والے امریکی سیاسی تجزیہ کار، میکس ہوفمین نے کہا تھا کہ "اردگان کی آمریت کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں 'سلطان' کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جو کہ ترکیہ کی سیاست، معاشرے اور معیشت پر اس کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے۔"

2016 میں ناکام بغاوت کے بعد سے ایردوان کے اقدامات کو بہت سے تجزیہ کار اور مغربی حکومتیں طاقت کے استحکام اور جمہوری طور پر منتخب صدر کے رویے سے زیادہ روایتی آمرانہ حکمران سے مشابہت رکھنے والے رویے کے طور پر دیکھتی ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران بے پناہ مقبولیت کے باوجود ایردوان کو آئندہ صدارتی انتخابات میں ایک مشکل جنگ کا سامنا ہے۔

تیسری مدت کے لیے صدر بننے کے لیے انہیں کن رکاوٹوں کو عبور کرنا ہو گا؟

سب کی نظریں زلزلے کے بعد حکومتی ردعمل پر ہیں.

ترکیہ کو فروری میں ملک کی جدید تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا تھا۔ 7.8 شدت کے زلزلے اور اس کے آفٹر شاکس نے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو تباہ کیا جس میں 160,000 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئیں، 100,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے، ایک ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے، اور 52,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

ورلڈ بینک نے زلزلے سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 34 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا ہے جو کہ 2021 میں ترکیہ کی مجموعی جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر ہے۔ تاہم، اس تخمینے میں تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں ہیں، جو ممکنہ طور پر دوگنا ہو سکتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے حساب سے کل اعداد و شمار کا نصف سے زیادہ رہائشی عمارتوں کو پہنچنے والے براہ راست نقصان کی قیمت تھی۔

زلزلے کے بعد ایردوان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ان کی حکومت نے تباہی سے نمٹنے کے لیے امدادی کارروائیوں میں سستی کی اور کس طرح حکومتی اہلکاروں نے امدادی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

حزب اختلاف کے چھ جماعتی اتحاد کے منتخب امیدوار کمال کلیک دار اوغلو نے اسے سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ایردوان نہیں جانتے کہ ریاست کو کیسے سنبھالنا ہے۔ اس عمل کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو وہ حکومت ہے۔ یہی حکمران جماعت ہے جس نے 20 سال سے ملک کو قدرتی آفت کے لیے تیار نہیں کیا۔

دریں اثنا، ایردوان نے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے اور اپنی "کوتاہیوں" کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آفت کا سامنا کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امدادی کوششیں اتنی تیز تر نہیں ہیں جتنی ہم چاہتے تھے،"

اس دوران یہ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں کہ زلزلے کے دوران ہزاروں عمارتیں کیوں منہدم ہوئیں، جبکہ ان میں سے بہت سی نئی تعمیر کی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ یہ عمارتیں سخت ترین حفاظتی ضوابط کے مطابق تھیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ گرنے والی تقریباً تمام عمارتیں زلزلے کے تعمیراتی ضابطے کے مطابق نہیں تھیں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں ایمرجنسی پلاننگ کے پروفیسر ڈیوڈ الیگزینڈر کے مطابق "یہ تباہی جو ناقص تعمیرات کی وجہ سے ہوئی، نہ کہ زلزلے سے"

2018 میں، ترکی نے ایک متنازعہ زوننگ ایمنسٹی قانون منظور کیا، جس کے تحت غیر قانونی طور پر یا مناسب اجازت نامے کے بغیر تعمیر کی گئی عمارتوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔ اس قانون کو شہری منصوبہ بندی کے حکام اور ماہرین نے تنقید کا نشانہ بنایا، جن کا موقف تھا کہ یہ مزید غیر قانونی تعمیرات کی حوصلہ افزائی کرے گا اور زلزلوں کے خطرے کو بڑھا دے گا۔

صدارتی انتخابات سے پہلے بہت سے لوگوں نے اسے اردگان اور اس کی حکومت کی جانب سے ووٹروں اور ڈویلپرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک سیاسی قام کے طور پر دیکھا۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ یہ اقدام شہری آبادی میں ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ زلزلے کے خلاف مزاحمت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرے گا۔"

اس ضمن میں اہم بات یہ بھی ہے کہ انفراسٹرکچر کی ترقی گزشتہ 20 سالوں میں اردوان کی انتخابی مہمات کا اہم حصہ رہی ہے۔ اس نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی ملک کی تعمیر نو کا عہد کیا تھا۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعمیراتی کاموں میں تیزی کے دوران بلڈنگ سیفٹی کوڈز کو نافذ کیے بغیر ایسے ڈھانچے تعمیر کیے گئے جو حفاظت کے لیے بنیادی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے تھے۔

ان کے سیاسی مخالفین نے زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں تعمیراتی ضابطوں اور عمارتوں کے حفاظتی معیارات کے نفاذ کے لیے دوبارہ جانچ پڑتال کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈوبتا ہوا لیرا

ترک حکومت زلزلے پہلے ہی معاشی بحران کے باعث دباؤ میں تھی۔

بہت سے لوگوں کا خیال تھا یہ معاشی بحران حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ اردگان انتظامیہ نے مانیٹری پالیسی میں مداخلت کی اور قابل اعتراض معاشی پالیسیاں نافذ کیں نتیجتا عوام مالی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔

ترکی کی کمزور معیشت اب تک صرف دولت مند اتحادیوں کی دم پر قائم ہے۔ لیکن عوام اب بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی سالانہ افراط زر کی شرح 58 فیصد تک کم ہو گئی ہے، جو گزشتہ سال کی دو دہائیوں کی آخری بلند ترین 85 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔

تاہم آزاد ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔

2021 میں، ترک کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں 44 فیصد قدر کھو دی۔ 2022 میں 30 فیصد زیادہ قدر گری، اور لیرا ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی بدترین کرنسی بن گئی۔ ترکی کا لیرا 2023 کے پہلے چھ ہفتوں میں تقریباً 1 فیصد مزید کمزور ہوچکا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے چھ ماہ کے اندر لیرا تقریباً 12 فیصد گر جائے گا۔

ایردوان 2016 سے ملک کی مانیٹری پالیسی کو تبدیل کرنے، شرح سود میں کمی یا حکومتی عہدیداروں کو تبدیل کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ اسے ان کے متنازعہ اور غیر روایتی اقدامات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن سے افراط زر میں اضافہ ہوا اور لیرا کو مزید کمزور کیا۔

عوامی جذبات اور بیلٹ باکس

زلزلے کے متاثرین ، جنہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، ہزاروں بے گھر لوگ اپنے مسائل کا کسی حد تک ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں تاخیر سے غم و غصہ بڑھا ہے۔

ایسے میں ایک صدارتی امیدوار کے لیے کافی مشکلات ہیں جس کی مقبولیت پہلے ہی کم ہو رہی تھی۔ انہیں لازمی طور پر عوام کی حمایت حاصل کرنے لیے کوشش کرنی ہوگی۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے سینٹر فار پولیٹکس کے ڈائریکٹر لیری سباتو کا کہنا ہے کہ ''جیسے ہی لوگ 14 مئی کو ووٹنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، اردگان کا سیاسی مستقبل زیادہ تر عوام کے جذبات پر منحصر ہو سکتا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ حکومت اس بحران سے کس طرح نمٹ رہی ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں