سزائے موت سے قبل تاریخی شخصیات کے حیرت انگیز اقوال اور اقدامات

بہت سی تاریخی شخصیات نے اپنے جلادوں کو مخاطب کیا اور موت کے خوف سے آزاد ہوکر بات کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گزشتہ دنوں یوکرینی فوجی کی پھانسی سے قبل سگریٹ پیتے ہوئے ویڈیو سامنے آنے پر عالمی سطح پر کئی رد عمل سامنے آئے ہیں۔ یوکرین نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس ویڈیو میں یوکرینی فوجیوں میں سے ایک سگریٹ پیتے ہوئے نظر آیا۔ یوکرینی فوجی نے ’’ یوکرین کی شان‘‘ کے نعرے لگائے اور اس کے بعد روسیوں نے اس کی جسم میں مشین گن کی گولیاں اتار دیں ۔

پوری تاریخ میں بہت سی تاریخی شخصیات نے اپنی سزائے موت سے قبل کیا آخری کلمات کہے یا کیا اعمال کیے۔ اس حوالے سے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ جن میں دیکھا گیا کہ بہت سے تاریخی شخصیات نے پھانسی سے پہلے اپنے جلاد کو چیلنج کیا اور موت کی مخالفت میں الفاظ اد ا کیے ہیں ۔ بعض افراد نے انہیں موت کی سزا پانے والوں کی ہمت سے نکلنے والے الفاظ قرار دیا، کچھ نے ان الفاظ کو موت سے پہلے ایک قسم کا خوف اور غیر ارادی حرکت قرار دیا۔

ولہیم کیٹل

جرمن مارشل ولہیم کیٹل 22 ستمبر 1882 کو پیدا ہوئے تھے ۔ انہیں دوسری جنگ عظیم میں سب سے نمایاں جرمن فوجی حکام میں شمار کیا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران انہوں نے جرمن مسلح افواج کے کمانڈر کا عہدہ حاصل کیا اور فرانس پر حملے میں حصہ لیا۔ اور 1940 میں انہوں کے ہتھیار ڈالنے کے مذاکرات کی قیادت کی۔ اگلے سال کیٹل نے سوویت سرزمین پر حملے میں اہم کردار ادا کیا۔ یورپی منظر نامے پر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی مارشل کیٹل نے 8 مئی 1945 کو جرمن ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

کیٹل اور ان کے ساتھیوں پر نیورمبرگ میں مقدمہ چلایا گیا۔ کیٹل کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جس پر 16 اکتوبر 1946 کو عمل درآمد کیا گیا۔ ان کے آخری الفاظ یہ تھے کہ میں امید کرتا ہوں کہ خدا جرمنی پر رحم کرے گا۔ 20 لاکھ سے زیادہ سپاہیوں نے مجھ سے پہلے جرمنی کے لیے جان دی ہے۔ اب میں آپ کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ ملوں گا۔

جارج ڈینٹن

فرانسیسی انقلاب کے دوران وکیل جارج ڈینٹن ایک مرکزی شخصیت تھے جنہوں نے بادشاہت کے خاتمے اور جمہوریہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ شروع سے ہی ڈینٹن نے انقلابی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور 1790 میں سوسائٹی آف فرینڈز آف ہیومن اینڈ سٹیزن رائٹس کے قیام میں اپنا حصہ ڈالا۔ اگلے سال ڈینٹن نے فرانس سے فرار ہونے کی کوشش کے بعد بادشاہ کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کیا اور اس نے 1792 میں ’’ ٹیولریز ‘‘ محل پر حملے میں نمایا ں کردار ادا کیا تھا ۔ ڈینٹن نے قومی کمیٹی کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ سیفٹی اور انقلابی عدالت نے دہشت گردی کے دور میں بڑی تعداد میں موت کی سزائیں سنائیں۔

نیشنل سیفٹی کمیٹی کے ممبران ڈینٹن کے خلاف ہو گئے۔ ان پر غداری کا الزام لگایا گیا اور انہیں گیلوٹین کے ذریعہ موت کی سزا دینے کا حکم دیا گیا۔

5 اپریل 1794 کو پھانسی سے قبل ڈینٹن نے جلاد سانسن کی طرف دیکھا اور اس سے کہا کہ میری موت کے بعدمیرا کٹا ہوا سر اٹھانا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں کیونکہ یہ اسی کا مستحق ہے۔

لوئس شانزدہم

’’ ٹیولریز ‘‘ محل پر مارچ کے بعد فرانسیسی انقلاب کے واقعات کے ایک حصے کے طور پر اگست 1792 کے مہینے میں فرانسیسیوں نے پہلی جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا اور آئینی بادشاہت کو ختم کر دیا۔ نتیجے کے طور پر لوئس XVI مقدمے کی سماعت کے سامنے پیش ہوئے جس میں فرانسیسی قومی کنونشن کے ارکان نے شرکت کی۔ یہ مقدمہ 10 سے 26 دسمبر 1792 تک چلا اور لوئس شانزدہم کو سزائے موت کے حکم کے ساتھ ختم ہوا۔

21 جنوری 1793 کو لوئس شانزدہم اپنی پھانسی سے پہلے وہاں موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا "میں اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے بے گناہ مر جاؤں گا۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں میری موت فرانس کی حفاظت کرے اور میرا خون اس پر لعنت نہ کرے۔‘‘

ناتھن ہیل

امریکی انقلابی جنگ کے دوران ناتھن ہیل کانٹی نینٹل آرمی کا سپاہی اور جاسوس تھا جس نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔ ناتھن ہیل نے نیو یارک میں کانٹی نینٹل آرمی کے لیے ایک جاسوسی مشن کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کیا۔ بدقسمتی سے وہ برطانوی افواج کے ہتھے چڑھ گیا۔ اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔ 22 ستمبر 1776 کو پھانسی سے پہلے 21 سالہ ناتھن ہیل نے کہا "مجھے ایک بات کا افسوس ہے کہ میرے پاس اپنے ملک کو دینے کے لیے صرف ایک زندگی ہے۔"

مسکراتا ہوا روسی افسر

سال 2006 کے دوران فن لینڈ کی وزارت دفاع نے جنگ جاری رکھنے کے دور کی کچھ تصاویر شائع کیں جو دوسری جنگ عظیم کا حصہ تھیں۔ اس عرصے کے دوران فن لینڈ نے 1941 میں آپریشن باربروسا کے ایک حصے کے طور پر سوویت سرزمین پر جرمن حملے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ماسکو کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ۔ یہ تصاویر سوویت افسر کی سزائے موت سے پہلے کی زندگی کے آخری لمحات کو نمایاں کرتی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ سوویت فوجی فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے سے قبل کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور ہنسا۔

مقبول خبریں اہم خبریں