ہم گھوڑے اور گدھے کا گوشت کیوں نہیں کھاتے؟ مصری صحافی نے تنازع کھڑا کر دیا

جامعہ الازہر میں تقابلی فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ نے گدھے اور خچر کی ممانعت پر مسلم فقہاء کے اجماع کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گزشتہ دنوں الدقھلیہ گورنری میں گھوڑے کا گوشت فروخت کرنے والے ایک پاکستانی کی گرفتاری پر ایک مصری صحافی کے ناپختہ تبصرہ کرکے مصر میں بڑا تنازع کھڑا کردیا۔ صحافی نے سوال اٹھا دیا کہ مصری گدھے اور گھوڑے کا گوشت کیوں نہیں کھاتے ؟

صحافی تامر امین نے بدھ کو اپنے پروگرام کی ایک قسط کے دوران کہا "جہاں تک مجھے معلوم ہے، گدھے اور گھوڑے کا گوشت کھانے میں کوئی مذہبی اعتراض نہیں ہے۔ ہم گدھے اور گھوڑے کا گوشت کیوں نہیں کھاتے؟ مصری کیوں گدھے اور گھوڑے کا گوشت نہیں کھاتے؟ خاص طور پر جب یہ یہ گوشت دوسرے ملکوں میں فروخت کیا جاتا اور کھایا جاتا ہے؟"

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھوڑے کا گوشت انتہائی صحت بخش اور محفوظ ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں گھوڑے کا گوشت ایک مہنگا پکوان ہے اور فرانس کے دارالحکومت پیرس میں یہ سب سے مہنگے کھانوں میں سے ایک ہے۔

الازھر کے شیخ نے جواب دے دیا

مصر کے صحافی تامر امین کے متنازع سوال کا جواب جامعہ الازہر میں تقابلی فقہ کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ نے دیا۔ انہوں نے گدھے اور گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم بتایا اور وضاحت کی کہ مسلم فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انسان کے لیے خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔

احمد کریمہ نے جمعرات کی شام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیانات کے دوران اشارہ کیا کہ گدھے اور خچر جیسی مخلوق کا گوشت کھانے کی حتمی ممانعت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فقہاء نے کتے، بلیوں، شیروں اور بھیڑیوں جیسے شکار کرنے والے ہر جانور کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے ۔ انہوں ن بتایا کہ مالکیوں نے کتے کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں دی ۔ بعض افراد کا ایسا کہنا درست نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں