مشرق وسطیٰ میں درجہ حرارت میں بڑھوتری کی شرح کا مقابلہ کیسے کیا جا رہا ہے؟

مینا خطے میں اگلے 100 سالوں میں مجموعی درجہ حرارت میں پانچ ڈگری کا اضافہ ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق مشرق وسطی کے ممالک میں درجہ حرارت کی شدت باقی دنیا سے دوگنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

سائپرس انسٹی ٹیوٹ کے کلائمیٹ اینڈ ایٹموسفیئر ریسرچ سینٹر اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار کیمسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور مشرقی بحیرہ روم کو باقی دنیا کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تیزی سے درجہ حرارت کی تبدیلی کا سامنا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر صورتحال کے تدارک کے لیے فوری طور پر کوئی خاطر خواہ اقدام نہ اٹھایا گیا تو مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں اگلے 100 سالوں میں مجموعی درجہ حرارت میں پانچ ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہو جائے گا۔

انتہائی موسمی حالات جیسے کہ متحدہ عرب امارات میں فجیرہ میں آنے والا بدترین سیلاب، خشک سالی، قدرتی آفات جیسے کہ ترکی میں زلزلوں کا سلسلہ، اور عام طور پر زیر زمین پانی کی سطح میں کمی ان سب کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آب وہوا کی تبدیلی کا اثر معیشت اور معاشرے دونوں پر رہائشی بحران، خوراک کی قلت، پینے کے صاف پانی کی قلت، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور ماہی گیری، زراعت، جنگلات اور کان کنی جیسے بنیادی شعبوں پر منفی اثرات کے لحاظ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

مطالعہ کے مطابق، جو چیز مشرق وسطیٰ کو دنیا کے کچھ دوسرے حصوں کے مقابلے میں درجہ حرارت میں زیادہ اضافے کے لیے زیادہ حساس بناتی ہے وہ جغرافیائی خصوصیات ہیں جیسے صحرا کا بڑا پھیلاؤ اور زیر زمین پانی کی سطح۔

مشرق وسطیٰ اور گلوبل ساؤتھ میں افغانستان سے صومالیہ، مالی سے یمن، اور فلسطین سے اسرائیل تک مسلح تصادم کی مثالیں ماحول کی صورتحال کو مزید تشویش ناک بناتی ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمی حالات سے وابستہ خطرات کو جنگ کے اثرات کے ساتھ ملایا جاتا ہے، تو اس کے نتائج کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ تنازعات والے علاقوں میں کمزور آبادی کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اچھی خبر

تاہم امید افزا بات یہ ہے کہ اس خطے میں لوگوں کو اس بات کا احساس ہے اور وہ ماحول دوست اقدامات کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے پاس علم، وسائل کے ساتھ ساتھ موسمیاتی ٹیکنالوجی میں عالمی قیادت کا کردار ادا کرنے کا موقع بھی ہے۔

اس خطے کو قدرت کے جانب سے عطا کردہ بے شمار وسائل کی دولت حاصل ہے جن میں سب سے زیادہ اہم شمسی توانائی کی پیداوار ہے جو اسے قابل تجدید توانائی کا ایک انتہائی کم لاگت پروڈیوسر بناتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی کوپ 28 کے حصول کی دوڑ صحیح سمت میں ایک اور امید افزا قدم ہے اور ملک میں نجی اور سرکاری ادارے ایسے پروگرام شروع کرتے رہتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

مثال کے طور پہ اس سال کے آغاز میں، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر نے اپنی 'کلائمیٹ فنانس ٹریننگ سیریز' کا اعلان کیا جس کا مقصد مالیاتی خدمات کے ماہرین کو کوپ 28 کے عمل، موسمیاتی مالیات میں عالمی رجحانات اور نیٹ زیرو کی حکمت عملی تیار اور لاگو کرنے کے لیے بہترین طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد کرنا تھا۔"

خام تیل پر خطے کا موجودہ معاشی انحصار اور خطے میں توانائی کی کھپت اور پیداوار دونوں سے متعلق پیچیدہ باریکیوں کے پیش نظر، نیٹ زیرو تک پہنچنے کا ہدف مشکل ، لیکن ضروری ہے۔

متحدہ عرب امارات کا نیٹ زیرو 2050 اقدام 2050 تک کاربن کے کم سے کم اخراج تک پہنچنے کی ایک قومی مہم ہے۔ یہ اقدام پیرس معاہدے کے مطابق ہے، جس میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرنے اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

500 بلین ڈالر کے میگا پروجیکٹ نیوم میں سعودی عرب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف ایک نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ مستقبل کے شہر نیوم کا مقصد ماحول سے سمجھوتہ کیے بغیر ترقی کی اعلی مثال پیش کرنا ہے۔"

کہا جا رہا ہے یہ شہر "خوراک میں دنیا کا سب سے زیادہ خود کفیل شہر" ہو گا۔ یہاں ایتھیکل فوڈ پروجیکٹ کے تحت اس بات کی مکمل نگرانی کی جائے گی کہ "کھانے کا پلینٹ سے پلیٹ تک کا سفر" قدرتی ماحول کے لیے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جائے، یہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کو بڑھانے میں کسی بھی طرح حصہ نہ ڈالے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کوپ 27 کے بعد سے خلیج میں توانائی کو قابل تجدید ذرائع تک منتقلی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ابوظہبی میں الظفرہ پلانٹ، جو ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا سنگل سائٹ سولر پلانٹ ہو گا اس سال تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

اسی طرح، سعودی عرب کا ویژن 2030 بھی پائیدار ترقی اور ذمہ دارانہ توانائی کی کھپت پر توجہ مرکوز کرتا ہے، اور سعودی گرین انیشیٹو جیسے منصوبے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ملک کے عزم کو بیان کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں