سوڈان: مشہور گلوکار کی قبر پر دف کے ساتھ گانا، ویڈیونے تنازع کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوڈان میں ایک عجیب و غریب واقعہ نے سوشل میڈیا پر جگہ بنا لی ہے ۔ بڑی تعداد میں سوڈانی شہری اس واقعہ پر بات چیت کر رہے ہیں۔ سوڈان میں فن اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ایک شخص نے اریٹیریا میں حاجی محمد احمد سرور کے مزار پر دف کے ساتھ گانا گایا۔ اس کی یہ انوکھی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔

گاناگانے والا روایتی لباس میں ملبوس اور ہاتھ میں دف نما آلہ لیے حاجی محمد احمد سرور کی قبر پر کھڑا تھا۔ یہ شہری اس گانے کو دف کے ساتھ گنگنا رہا ہے جس گانے کے لیے احمد سرور خود مشہور تھے۔ اپنی سریلی آواز میں شہری حاجی سرور کے مشہور گانوں کو دہرا رہا تھا۔ وہ شاعرصالح عبد السید ’’ابو صلاح‘‘ کے گانے کو گا رہا ہے۔ اس کے بول کچھ یوں ہیں۔

’’ الفروع تتمايل ميلة الفرحان ۔۔ والزهور بتصفق ويرقص الريحان ۔۔ ‘‘

اس گانے پر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس پر طوفان کھڑا ہوگیا۔ اس ویڈیو کلپ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گانا گا کر فوت شدہ افراد کے تقدس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اس طرح یہ قبروں کی بھی توہین ہے۔ اس سے ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس گلوکار کے لیے زیادہ مناسب یہی تھا کہ وہ گانے گاتا رہتا۔ اریٹیریا میں مرحوم کی قبر پر حاضری دینے کے لیے دعا کو گانے سے بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جو افسوس نا ک ہے۔

قبر پر گانا گانے والے کی حمایت میں بھی کچھ افراد نے بات کی اور کہا کہ سوڈانیوں میں مرنے والوں کے لیے ماتم، عزاداری اور جنازے کے نغموں کا رجحان پہلے سےرائج ہے۔ قدیم اور جدید دور میں غم کا اظہار گانے کی صورت میں کیا جاتا رہا ہے۔

اس رویے کے دفاع میں بات کرنے والوں میں سے ایک نے اس مثال کو بھی یاد کیا جس کی نمائندگی سوڈان میں فن کے ستونوں میں سے ابراہیم الکاشف کے جنازے پر گلوکار صدیق الکہلاوی نے ایک کے جنازے کے دوران گانے ’’ وداعا معبدی القدس‘‘ کے ذریعے کی تھی۔ ابراہیم الکاشف 1969 میں فوت ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک وصیت کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے ان کے لیے گانا گایا گیا تھا۔

محمد احمد سرور کون ہے؟

الحاج محمد احمد سرور 1901 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف کے دوران سوڈان میں فن کے استادوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں گانے ک ساتھ دف نما آلہ استعمال کرنے والے اولین گلوکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

وہ اپنی شاعری پر بہت توجہ دیتے تھے۔ اپینڈکس کو نکالنے کے لیے سرجیکل آپریشن کی پیچیدگیوں کی وجہ سے 1946ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت ڈاکٹر نے انہیں پانی دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن وہ صبر نہ کر سکے۔ انھوں نے اپنی نرس کو نظر انداز کر کے پانی پی لیا تھا۔ ایک مختلف روایت میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پانی پینے پر اس قدر اصرار کیا اور خوب سیر ہوکر پانی پیا اور وفات پا گئے۔ انہیں اریٹیریا کے دار الحکومت اسمرا شہر میں دفن کیا گیا جو کہ 1993ء میں آزادی حاصل کرنے سے قبل ایتھوپیا کا حصہ تھا ۔ ان کی قبر اب بھی وہیں موجود ہے۔


مقبول خبریں اہم خبریں