دریا کے درمیان پنجرے میں قید : اطالوی قصبہ میں سیاستدانوں کے لیے انوکھی علامتی سزا

یہ رسم ایک تاریخی سزا کی پیروڈی ہے، تفریح کے ساتھ ساتھ غلطی کرنے والوں کا کفارہ بھی سمجھا جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اٹلی میں ایک ایسا شہر بھی ہے جو ہر سال مجرموں کو پنجرے میں ڈال کر سزا کے طور پر دریا میں ڈبو دیتا ہے۔ اگرچہ یہ تھوڑی سی تفریح کے لیے صرف کچھ دیر تک فوری نوعیت کاغوطہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ غلطی کرنے والے کو باہر رکھنے کی جگہ ایک متبادل سزا کی نمائندگی ہوتی ہے۔

سیاستدان سب سے اہم

تیز پانی میں ڈبونے کی اس تقریب کو ’’Tonca ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم ویجیلین تہواروں کا ایک حصہ ہے ۔ یہ رسم اطالوی شہر ٹرینٹو میں ہر سال جون کے دوسرے نصف میں منعقد کی جاتی ہے۔ ان تقریبات کا مقصد ان مشہور شخصیات کا ٹرائل کرنا ہے جنہوں نے سال بھر غلطیاں کی ہوتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ معصوم لوگوں کو اس سزا کے لیے منتخب کرلیا جائے اور آخر وقت میں غوطہ سے بچا لیا جائے۔ جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہےوہ سب سے اہم کیٹگری ہے۔ ان رسومات کا زیادہ تر مقصد ان کی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا بھی ہوتا ہے۔

سزا کی ایک تاریخ ہے

’’ٹونکا‘‘ شہر کا ایک روایتی پروگرام ہے جو ہر سال 26 جون سے پہلے آخری اتوار کو انجام دیا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ’’ٹونکا‘‘ کی رسم 19 جون کو منقعد کی گئی تھی ۔ اس میں 6 افراد کو پنجرے میں ڈال کر دریا کے پانی میں ڈوبنے کے لیے چھوڑا گیا تھا۔ ان میں سے پانچ کو دریائے اڈیج میں غوطہ دئیے جانے سے بچا لیا گیا تھا۔

اطالوی قصبہ میں تاریخی سزا کی پیروڈی کی جاتی
اطالوی قصبہ میں تاریخی سزا کی پیروڈی کی جاتی

یاد رہے لوگوں کو پنجرے میں دریا میں ڈبونا ایک تاریخی سزا کی پیروڈی ہے جو ماضی کے زیادہ تر صدیوں میں غلط کام کے مرتکب پائے جانے والوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں