گل بابونہ نے سعودی پہاڑ ’’ المسمّیٰ ‘‘ کو خوبصورت بنا دیا، دلکش نظارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے حائل شہر اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام سے موسوم فطری چرا گاہ کے شمال مغرب میں واقع ’’المسمّیٰ‘‘ نامی پہاڑ پر اگنے والے گل داؤدی سے مشابہہ بابونہ کے پھولوں نے پہاڑ کو خوبصورت بنا دیا ہے۔

علاقے میں خودرو گل بابونہ کی بہار نے ایک دلکش نظارہ پیدا کر دیا ہے۔ پہاڑ کے پہلو میں گل داؤدی اگ آئے ہیں۔ پھولوں کی پتیوں سے زمین سفید ہو گئی۔ مسحور کر دینے والے اسے قدرتی نظارے نے فوٹو گرافر وں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔

گل بابونہ، جسے ’’الاقحوان‘‘ بھی کہا جاتا ہے، نے اس مقام کو خوبصورت بنا دیا۔ ’’الاقحوان ‘‘ ایک مرکب خاندان کا پودا ہے۔ یہ ایک جڑی بوٹی ہے۔ اس پودے کی اونچائی 50 سے 120 سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ اس کا پسلیوں والا تنا ہوتا ہے جس سے کچھ شاخیں پھوٹتی ہیں۔ اس کے پھول کے پتے پتے سفید ہوتے ہیں۔ اسے کچلا جائے تو کافور کی طرح کی خوشبو بکھر جاتی ہے۔ اس کے پھول درمیان سے پیلے اور نصف کرہ دار ہوتے ہیں۔

فوٹوگرافر عبداللہ البرغش نے ’’الاقحوان ‘‘ کی خوبصورتی کو تصاویر اور ویڈیو میں محفوظ کر لیا۔ ان خوشنما پھولوں کا سلسلہ جنوب میں پہاڑ ’’العرقوب‘‘ کے سلسلہ سے شروع ہو کر شمال میں النفوذ الکبیر تک پھیلا ہوا ہے۔ پھولوں کے جمال نے زمین پر ایک خوبصورت سفید قالین بچھا دیا ہے۔

البرغش نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو دیا اور کہا کہ بارشوں نے اس جگہ کو متاثر کیا ہے۔ بادلوں سے برسنے والے پانی نے اس زمین کو ایک سفید جنت میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ موسم بہار کی آمد کی پیش گوئی ہے۔ اس علاقے میں بہت سے پہاڑ ہیں۔ ان پہاڑوں میں ’’ غضب، صھیہ، المذیبح، السطیحہ، العوجا، مخروق اور القوس الشھیر کے پہاڑ نمایاں ہیں۔

فوٹوگرافر عبداللہ البرغش نے بتایا کہ یہ ستاروں اور کہکشاؤں کا مشاہدہ کرنے کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس جگہ کا دورہ سعودی عرب اور خلیجی ملکوں کے مختلف خطوں کے افراد کرتے ہیں۔ اس خطے کی فطرتی خوبصورتی کو حالیہ بارشوں نے مزید چار چاند لگا دئیے ہیں۔

خیال رہے سعودی عرب میں نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی ’’کانو‘‘ نے اتوار کو موسم کی رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ اس خطے میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش او ژالہ باری ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں