العربیہ خصوصی رپورٹ

انڈیا پانچ برس سے جنگی ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک، پاکستان آٹھویں نمبر پر

سعودی عرب دوسرا سب سے بڑا ملک، قطر اور مصر سرفہرست 10 بڑے ملکوں میں شامل، ایشیا اور یورپ اسلحے کی دوڑ میں آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

انڈیا گذشتہ پانچ برس سے جنگی ہتھیار اور دفاعی سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان دفاعی درآمدات میں 14 فیصد اضافہ کے بعد آٹھویں نمبر پر ہے۔ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی خریداری میں کمی ہوئی تاہم یورپ میں روس یوکرین جنگ کے بعد اسلحے میں اضافے کی دوڑ لگی ہے۔

ان حقائق کا انکشاف سویڈن کے معروف تھنک ٹینک اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) نے پیر کو ایک تحقیقی رپورٹ میں کیا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہتھیاروں کے مجموعی حجم کا سب سے زیادہ ، 11 فیصد اکیلے بھارت نے پانچ سال کے دوران خریدا۔

انڈیا میں ہتھیاروں کی درآمدات میں 2013-17 اور 2018-22 کے درمیان 11 فیصد کمی واقع ہوئی تاہم یہ اب بھی دنیا کا سب سے بڑا جنگی ہتھیار درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس کمی کو کئی عوامل سے منسوب کیا جا سکتا ہے جن میں خریداری کے عمل کی پیچیدگی، ہتھیاروں کے سپلائرز کو متنوع بنانے کی کوششیں اور درآمدات کی بجائے ملکی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری شامل ہیں۔

روس 2013-17 اور 2018-22 دونوں ادوار میں ہندوستان کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن جنگ اور پابندیوں کی وجہ سے روس سے ہتھیاروں کی فراہمی 64 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی۔ فرانس ہندوستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا ملک ہے۔

پاکستان ٹاپ ٹین میں شامل

پاکستان دفاعی درآمدات کی اس فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

2013-17 اور 2018-22 کے درمیان پاکستان کی ہتھیاروں کی درآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ عالمی مجموعی حجم کا 3.7 فیصد ہے۔

چین نے 2018-22 کے دوران پاکستان کو دفاعی سامان کا تین چوتھائی (77 فیصد) سے زیادہ فراہم کیا۔


اسلحے کی منتقلی کے عالمی ٹرینڈ

2018-22 میں پانچ سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ملک ہندوستان، سعودی عرب، قطر، آسٹریلیا اور چین تھے۔ پانچ بڑے ہتھیار فراہم کرنے والے ملک امریکہ، روس، فرانس، چین اور جرمنی تھے۔

2013-17 اور 2018-22 کے درمیان یورپی ریاستوں میں بڑے ہتھیاروں کی خریداری میں 47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بین الاقوامی ہتھیاروں کی منتقلی کے عالمی حجم میں 5.1 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دونوں ادوار کے درمیان افریقہ (-40 فیصد)، امریکہ (-21 فیصد)، ایشیا اور اوشیانا (-7.5 فیصد) اور مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی منتقلی میں (-8.8 فیصد) کمی واقع ہوئی۔

یوکرین میں جنگ نے 2018-22 میں ہتھیاروں کی منتقلی کے کل حجم پر صرف محدود اثر ڈالا، لیکن یوکرین سال 2022 میں ہتھیاروں کا بڑا خریدار بن کر سامنے آیا۔

2018-22 میں ایشیا اور اوشیانا خطے کے ممالک نے سب سے زیادہ (41 فیصد ) ہتھیار خریدے اس کے بعد مشرق وسطیٰ نے (31 فیصد)، یورپ نے(16 فیصد)، امریکہ نے(5.8 فیصد) اور افریقہ نے (5.0 فیصد) ہتھیار درآمد خریدے۔

ایشیا اور اوشیانا اب بھی سب سے زیادہ ہتھیار درآمد کرنے والا خطہ

گذشتہ 5 سالوں میں ہتھیاروں کی مجموعی تعداد کا 41 فیصد ایشیا اور اوشیانا کے ممالک نے حاصل کیا۔

خطے میں مجموعی طور پر کمی کے باوجود، کچھ ممالک میں نمایاں اضافہ ہوا، اور دیگر میں نمایاں کمی ہوئی۔

خطے کے چھ ممالک ہندوستان، آسٹریلیا، چین، جنوبی کوریا، پاکستان اور جاپان عالمی سطح پر 10 بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔

چین میں جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا، جن میں زیادہ تر روس سے لیے گئے۔

مشرق وسطیٰ نے اعلیٰ درجے کے امریکی اور یورپی ہتھیار خریدے

2018-22 میں ہتھیار خریدنے والے 10 بڑے ملکوں میں سے تین سعودی عرب، قطر اور مصر مشرق وسطیٰ میں تھے۔

سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی سازوسامان خریدنے والا ملک ہے اور اس نے اس عرصے میں ہتھیاروں کے مجموعی حجم کا 9.6 فیصد حاصل کیا۔

قطر ہتھیاروں کی درآمد میں 311 فیصد اضافے کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔

مشرق وسطیٰ میں اسلحے کی 54 فیصد خریداری امریکہ سے ہوئی، اس کے بعد فرانس سے (12 فیصد)، روس سے (8.6 فیصد) اور اٹلی سے(8.4 فیصد) سامان خریدا گیا۔

خلیجی ریاستوں اور مشرق وسطی میں دفاعی خریداری میں 260 سے زیادہ جدید جنگی طیارے، 516 نئے ٹینک اور 13 فریگیٹس شامل تھے۔

خلیجی خطے میں صرف عرب ریاستوں نے مزید 180 جنگی طیاروں کے آرڈرز دیے ہیں، جب کہ ایران 24 طیارے روس سے لے گا (جسے 2018-22 کے دوران عملی طور پر کوئی بڑا ہتھیار نہیں ملا)۔


یوکرین اور پورے یورپ میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز تر

یورپی ممالک میں اسلحے کی درآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔ جس کا واضح سبب روس کی طرف سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے جبکہ نیٹو کے ممالک نے اپنے ہتھیاروں کی درآمدات میں 65 فیصد تک اضافہ کیا۔

یوکرین 2018-22 میں ہتھیاروں کا بڑا خریدار بن گیا۔ یہ اس عرصے میں عالمی سطح پر 14 واں سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک تھا مگر سال 2022 میں یہ تیسرا سب سے بڑا جنگی سامان درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔


دیگر قابل ذکر پیش رفت

دو طرفہ کشیدگی کی وجہ سے ترکیہ کو امریکی اسلحے کی فراہمی میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی۔ ترکی امریکی ہتھیار حاصل کرنے والا 7 واں بڑا ملک تھا جو 27 ویں نمبر پر آگیا۔

سب صحارا افریقہ میں ہتھیاروں کی درآمد میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔ انگولا، نائیجیریا اور مالی نے سب سے زیادہ ہتھیار لیے۔ روس چین کو پیچھے چھوڑ کر اس خطے کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔

امریکہ، روس اور فرانس کے بعد ہتھیار فراہم کرنے والے سات بڑے ملکوں میں سے پانچ ممالک چین (-23 فیصد)، جرمنی (-35 فیصد)، برطانیہ (-35 فیصد)، اسپین (-4.4 فیصد) اور اسرائیل (-15 فیصد) کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی۔ جب کہ دو ملکوں اٹلی (+45 فیصد) اور جنوبی کوریا (+74 فیصد)میں بڑا اضافہ دیکھا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں