افغانستان میں خواتین کے لیے کوئی لائبریری باقی نہیں رہی

کابل میں خواتین کی کتابوں کی اکلوتی لائبریری افتتاح کے چھ ماہ بعد بند کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو طالبان نے افغان دارالحکومت کابل میں خواتین کی کتابوں کی اکلوتی لائبریری بھی افتتاح کے چھ ماہ بعد بند کردی ہے۔ خواتین کی لائبریری کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ انہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر لائبریری کو بند کر دیا ہے ۔ طالبان کی طرف سے خواتین پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ۔ لائبریری کے بانیان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے لائبریری پر کم از کم دو مرتبہ حملہ کیا اور لائبریری کے افتتاح کے چھ ماہ بعد اسے بند کردیا ہے۔

دوسری طرف لائبریری کے بانیوں میں سے ایک مریم دبیر نے تجویز پیش کی ہے کہ طالبان کی جانب سے منظم طریقے سے ان کو خارج کرنے کے جواب میں لڑکیاں لائبریریاں کھولنے کے لیے خفیہ طور پر کام کریں گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ اگست میں متعدد افغان خواتین نے کابل میں خواتین کی لائبریریاں کھولی تھیں جو ان کے لیے ایک ایسے ملک میں واحد پناہ گاہ تھیں جہاں لڑکیوں اور خواتین کو کام کرنے، تدریس کرنے یا حتی کہ عوامی اور تفریحی مقامات پر جانے سے روکا جاتا تھا۔

خواتین کے عالمی دن آٹھ مارچ کے حوالے سے ایک بے مثال اقدام میں یورپی یونین نے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کرنے پر طالبان کے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر ندا محمد ندیم پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد عام طور پر انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حوالے سے زیادہ لچک دکھانے کا وعدہ کیا تھا تاہم وہ جلد ہی اپنے انتہا پسندانہ اصولوں کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ خواتین کے حوالے سے ان کے اقدامات ایک مرتبہ پھر 1996 سے لیکر 2001 تک کے ان کے پہلے دور اقتدار کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔

طالبان کی حکومت نے دھیرے دھیرے خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر خارج کرکے رکھ دیا ہے۔ زیادہ تر خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے یا انہیں گھر میں رہنے پر آمادہ کرنے کے لیے کم اجرت دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں