بڑے زلزلے کی تاریخ قریب آ رہی، 93 فیصد عمارتیں گر جائیں گی: اسرا ئیلی ماہر

جنوبی لبنان اور جنوبی بحیرہ مردار کے درمیانی علاقے میں شدید زلزلہ آنے کا قوی امکان ہے: میتن یاھو اینجل مین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سینئر اسرائیلی ماہر نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں اس خطے میں بڑا زلزلہ آنے کا امکان ہے ، تاہم دوسری طرف حکومت اور مقامی حکام اس متوقع بڑے زلزلے کے حوالے سے تیار ی میں ناکام ہیں۔ یہ زلزلہ اس قدر شدید اور ہولناک ہوسکتا ہے کہ اس سے 93 فیصد عمارتیں منہدم ہوسکتی ہیں۔

اسرائیل کے سٹیٹ کنٹرولر ’’میتن یاہو اینجل مین‘‘ نے رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ گزشتہ انتباہات کے باوجود وزارت تعمیرات و ہاؤسنگ نے 1124 عمارتوں کا استحکام مکمل نہیں کیا ۔ ان عمار توں کے تحفظ کے لیے ایسے شہروں میں فوری مداخلت کی ضرورت ہے جہاں زلزلے سے سب سے ز یادہ نقصان کا خطرہ ہے۔ یہ اعداد و شمار 93 فیصد عمارتوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کا ماضی میں گرنے کے امکان کے طور پر حوالہ دیا گیا تھا۔ اسرائیلی ماہر نے نشاندہی کی کہ اسرائیل شامی افریقی حصے کے قریب واقع ہے اور اس وجہ سے ہر سال یہاں بڑے زلزلے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

’’میتن یاہو اینجل مین‘‘ نے مزید کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جنوبی لبنان اور جنوبی بحیرہ مردار کے درمیانی علاقے میں اگلے پچاس سالوں کے دوران شدید زلزلہ آئے گا۔ انہوں نے حکومت سے تیزی سے کام کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا دور دراز کے شہروں میں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا بجٹ درکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ تمام پیشہ ور جماعتوں سے کام کا عزم لیا جائے اور وسائل کو مناسب طریقے سے تقسیم کرنے کی پالیسی بنائی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں