سعودی عرب

کیا مایوس خامنہ ای نے چین میں سعودی عرب،ایران معاہدے پرزوردیا؟تجزیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اپنی سیاسی اوراقتصادی تنہائی کے خاتمے کاخواہاں ایران گذشتہ دو سال سے اپنے دیرینہ علاقائی حریف سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

دو ایرانی عہدے داروں نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ گذشتہ ستمبر میں ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے صبرکا پیمانہ دو طرفہ مذاکرات کی سست رفتار پرلبریز ہوگیاتھا اور انھوں نے اس عمل کو تیز کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اپنی ٹیم کو طلب کیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی عمل میں چین بہ طور ثالث شریک تھا۔

گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اہم پیش رفت میں بیجنگ کے خفیہ کردارنے مشرق اوسط میں حرکیات کو ہلا کر رکھ دیا ہے،جہاں امریکا کئی دہائیوں سے اہم ثالث کے طورپرکردار ادا کرتا چلا آرہاتھا۔چین نے اس طرح اپنی سلامتی اور سفارتی طاقت کو بڑھاوا دیا ہے۔

مذاکرات میں شامل ایک ایرانی سفارت کار نے کہا کہ چین نے عُمان اورعراق میں مذاکرات کے دوران میں خلا کوکم کرنے اورحل طلب مسائل پر قابو پانے کے لیے تہران اور الریاض دونوں کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہرکی۔اس کی ثالثی میں دونوں ملکوں میں معاہدہ سات سال کے سفارتی تعطل کے بعد طے پایا ہے۔سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کا مطلب سکیورٹی میں بہتری ہو سکتی ہے۔سنہ 2019 میں سعودی عرب نے ایران پر آرامکو کی تیل کی تنصیبات پرحملوں کا الزام عائد کیا تھا جس کی وجہ سے کچھ روز کے لیے اس کی آدھی سپلائی ختم ہو گئی تھی۔ایران نے اس میں ملوّث ہونے کی تردید کی تھی جبکہ یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دریں اثناء سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ ایران میں سعودی سرمایہ کاری اب تیزی سے ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے پرمشتعل افراد کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان مخاصمت نے مشرق اوسط میں استحکام کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور یمن، شام اور لبنان سمیت علاقائی تنازعات کو ہوا دی تھی۔یہ پوچھے جانے پرکہ کیا سعودی عرب اور ایران کے درمیان معاہدہ دیرپا ہوسکتا ہے،بیجنگ میں ہونے والی بات چیت میں شامل ایک سینیرچینی سفارت کار وانگ ڈی نے نامہ نگاروں کو بتایا تھاکہ مفاہمت ایک ایسا عمل تھاجس میں یہ توقع نہیں تھی کہ تمام مسائل راتوں رات حل ہو جائیں گے۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی ژنہوا کے نامہ نگار یانگ لیو نے ٹویٹر پر کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریق تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے خلوص کا مظاہرہ کریں۔ایک سعودی عہدہ دار نے بتایا کہ واشنگٹن کے سب سے اہم عرب اتحادی سعودی عرب نے دو سال قبل عراق اور عُمان میں ایران کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے طریقے تلاش کرنا شروع کیے تھے۔

اس کے نتیجے میں دسمبر میں ایک اہم مرحلہ آیا تھا، جب چینی صدر شی جن پنگ نے الریاض کا دورہ کیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ ملاقات میں چینی صدرنے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خواہش کا اظہارکیا۔

سعودی عہدہ دار نے کہا کہ ولی عہد نے اس کا خیر مقدم کیا اوروعدہ کیا کہ وہ مذاکرات کے گذشتہ دور کا خلاصہ چین کو بھیجیں گے۔نیز یہ واضح کریں گے کہ ہم ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

عہدہ دار نے مزید کہا کہ فروری میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور چین نے الریاض کی تجاویز کو آگے بڑھایا تھا جسے ایرانی فریق نے قبول کر لیا تھا۔

چین کی ثالثی 'بہترین آپشن'

ایک ایرانی عہدہ دار نے بتایاکہ معاہدے میں سیکیورٹی خدشات سے لے کر اقتصادی اور سیاسی امور تک متعدد امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن ہم نے اس بات پراتفاق کیا ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے عدم استحکام کا باعث نہیں بنے گا۔نیزایران خطے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا،خاص طور پر یمن میں، تاکہ الریاض کی سلامتی میں مدد کی جا سکے۔

دونوں فریق خلیج عرب میں سلامتی کے تحفظ، تیل کے بہاؤ کی ضمانت، علاقائی مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنے کی پوری کوشش کریں گے جبکہ تہران اور الریاض ایک دوسرے کے خلاف فوجی جارحیت میں ملوّث نہیں ہوں گے۔

عرب اتحاد کئی سال سے یمن میں ایران کی حمایت حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار ہے۔ایران نے حوثیوں کو کتنی حمایت دی ہے، جو شیعہ نظریات کے حامل ہیں، یہ کبھی واضح نہیں ہو سکا۔خلیج کے سنی ممالک ایران پرالزام عاٰد کرتے ہیں کہ وہ خطے میں شیعہ آلہ کارتنظیموں کے ذریعے مداخلت کر رہا ہے، تاہم تہران اس کی تردید کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران حوثی مہیّا کواسلحہ، تربیت، نظریاتی پروگرام، پروپیگنڈا اور مہارت سے لیس والا سب سے بڑا ملک ہے اور ہم اس کا سب سے بڑا شکار ہیں۔ ایران بہت کچھ کر سکتا ہے اور اسے بہت کچھ کرنا چاہیے۔

خامنہ ای کے اندرونی حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے مذاکرات کی قیادت کے لیے اپنے قومی سلامتی کے سینیر عہدہ دار علی شمخانی کا انتخاب کیا تھا کیونکہ وہ نسلی طورپرایک عرب ہیں۔

مذاکرات میں شامل ایرانی سفارت کار نے کہا کہ چین نے عُمان اورعراق میں مذاکرات کے دوران خلا کو کم کرنے اور حل طلب مسائل پر قابو پانے کے لیے تہران اور الریاض دونوں کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہرکی تھی۔انھوں نے کہا کہ واشنگٹن پر ایران کے عدم اعتماد اور بیجنگ کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے پیش نظر چین ہی بہترین آپشن تھا۔ ایک ایرانی عہدہ دار نے ان ملاقاتوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرق اوسط کو پرامن بنانے سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔

کئی دہائیوں کے عدم اعتماد کے بعد،جاری تنازعات کے حل حیران کن نہیں ہونے چاہییں۔’’اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ تہران اورالریاض کے درمیان کوئی مسئلہ یا تنازعات نہیں ہوں گے۔اس کامطلب یہ ہے کہ مستقبل میں جو کچھ بھی ہوگا،وہ ’کنٹرولڈ‘انداز میں ہوگا‘‘۔ایران کی فیصلہ ساز اشرافیہ کی مقرب ایرانی شخصیت کا کہنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں