حیران کن، عام پانی کی بوتل میں بیت الخلا سے 40 ہزار گنا زیادہ بیکٹریا ہوسکتے

ایسے پانی میں Bacillus Cereus اور Gram- Negetve بیکٹریا پائے جاتے ہیں، بوتلوں کو دھو کر جراثیم سے پاک کیا جاتا رہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہم اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی بوتل خریدنے کے لیے اکثر دن بھر دکانوں پر رک جاتے ہیں اور اس پانی کے خطرات کو سمجھے بغیر پانی کی بوتل خرید لیتے ہیں۔ تاہم ناقابل یقین طور پر ایک امریکی تحقیق می بتایا گیا کہ کہ عام پانی کی بوتل میں بیت الخلا سے 40 ہزار گنا زیادہ بیکٹریا ہوسکتے ہیں۔ امریکی نیو یارک پوسٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق نے تصدیق کی ہے کہ دوبارہ قابل استعمال پانی کی بوتلوں میں ٹوائلٹ سیٹ سے زیادہ بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ محققین نے متعدد پانی کی بوتلوں کو سکین کیا جو بازار میں فروخت کی جاتی ہیں اور انہیں متعدد بار استعمال کیا جا تا ہے۔

مطالعہ کرنے والی ٹیم کو زیادہ تر بوتلوں پر دو قسم کے بیکٹیریا ملے۔ یہ دو اقسام کے بیکٹریا Bacillus cereus اور Gram-negative ہیں ۔ یہ بیکٹیریا اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت رکھتے اور معدے کے مسائل کو بڑھاتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اس قسم کے بیکٹیریا کی مقدار عام ٹوائلٹ سیٹ میں پائے جانے والے بیکٹیریا کی اوسط تعداد سے 40 ہزار گنا زیادہ تھی۔ ٹیم نے یہ بھی بتایا کہ ان بوتلوں میں کچن کے سنک سے دو گنا زیادہ بیکٹیریا، کمپیوٹر ماؤس سے چار گنا زیادہ بیکٹیریا اور پالتو جانوروں کے پینے کے پیالے سے 14 گنا زیادہ بیکٹیریا موجود ہیں۔

دھو کر جراثیم سے پاک کریں

امپیریل کالج لندن کے مالیکیولر مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر اینڈریو ایڈورڈز نے وضاحت کی کہ اگر انسانی منہ بڑی تعداد میں اور مختلف قسم کے بیکٹیریا کا گھر ہوسکتا ہے تو یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ پینے کی بوتلیں ان جرثوموں سے بھری ہوئی ہوں۔ اس تحقیق کے بعد محققین نے مشورہ دیا ہے کہ اپنی بوتلوں کو دن میں کم از کم ایک بار گرم پانی اور صابن سے دھویا جائے اور ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ ایسی بوتلوں کو جراثیم سے پاک کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں