سوڈان کا شہر ’’مایرنو‘‘ جہاں برہنہ آنکھ سے چاند دیکھے بغیر رمضان شروع نہیں ہوتا

اسے ’’ جادوگروں کا شہر‘‘ بھی کہا جاتا، شیوخ کی روحانی طاقت سے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایسے وقت میں جب روئے زمین کے مشرق اور مغرب میں مسلمانوں کی اکثریت رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کی تحقیق میں مصروف ہے، تنہا ایک شہر اس بات سے لاتعلق ہے کہ چاند دیکھنے کے لیے دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ اس شہر میں عشروں سے رمضان المبارک کے متعلق یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ رمضان المبارک اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک خود برہنہ آنکھ سے چاند کو دیکھ نہ لیا جائے۔
یہ علاقہ سوڈان میں ریاست ’’سنار‘‘ میں ’’مایرنو‘‘ کی سلطنت ہے۔ یہ خرطوم سے لگ بھگ 320 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ رواج زمانہ قدیم سے نسل در نسل چلتا آرہا ہے۔ اس علاقے والوں نے اپنی یہ روایت عالمگیریت اور ڈیجیٹل ترقی کے سامنے بھی برقرار رکھی ہے۔ سلطنت میں ایسے کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے سلطنت سے باہر جاکر تعلیم حاصل کی ہے تاہم اس رواج کی مخالفت یا اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جسارت کوئی بھی نہیں کرتا۔
’’مایرنو‘‘ کے باشندے نبی صلوسلم عل کی اس حدیث مبارکہ کی پیروی کرتے ہیں ۔ "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُم فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ"۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ "جب تم اسے یعنی چاند کو دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب تم اسے دیکھو تو افطار کرو، اور اگر تم پر ابر آلود ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔"
وہ عیدالفطر کا اعلان کرنے کے لیے ماہ شوال کے چاند کے نظر آنے کی تحقیقات میں بھی اسی طرز عمل پر عمل کرتے ہیں اور فلکیاتی حسابات کا اندازہ نہیں لگاتے۔ یہ لوگ باقی اسلامی دنیا کی طرح چاند دیکھنے کے لیے خوردبین یا دوربین بھی استعمال نہیں کرتے۔
مایرنو کی تاریخ
مایرنو کی سلطنت سوڈان میں گزشتہ صدی کے آغاز میں شیخ عثمان ڈانفوڈیو کی اولاد کے ذریعہ قائم کی گئی تھی ۔ عثمان ڈانفوڈیو اٹھارویں صدی عیسوی میں افریقی براعظم کے عظیم رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ مغربی افریقہ میں نائیجیریا میں سوکوٹو کی اسلامی مملکت کے زوال کے بعد۔ انگریزوں کے خلاف ورنو کی خوفناک جنگ کے بعد عثمان ڈانفوڈیو کی اولاد نے مشرق کی طرف ہجرت کرنے کا انتخاب کیا۔ ساڑھے تین سال کے پیدل سفر پر مشتمل ایک کٹھن مرحلہ کے بعد یہ مسافر سوڈان میں اترے تھے۔
سوڈان میں ’’ سنار‘‘ میں انہوں نے نیلے دریائے نیل کے مغربی کنارے پر زمین کا ایک ٹکڑا منتخب کیا اور ’’می ورنو‘‘ کی سلطنت قائم کی۔ جس کا مطلب فلانی زبان میں ماسٹر کا بیٹا ہے۔ بعد میں یہ نام ’’مایرنو‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔
سوڈان پہنچنے کے بعد وہ مہدی ریاست میں شامل ہونے کے لیے اپنی آرزو سے متاثر ہوئے لیکن انھوں نے محسوس کیا کہ مہدیت جسے وہ پسندیدگی اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ ریاست لارڈ کٹنشر پاشا کی قیادت میں انگریزوں کے ہاتھوں غروب ہو چکی تھی۔
اسی لیے سنار کے مضافات میں ’’مایرنو‘‘ میں رہنا ان کے لیے خوشی کا باعث بن گیا۔ انھوں نے اس علاقے کی تعمیر کی۔ یہاں پودے لگائے، فصلیں کاشت کیں اور آپس میں شادیاں کیں۔ پھر بہت سے لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوتے گئے اور علاقے کی آبادی بڑھنا شروع ہوگئی۔ اس وقت ’’ مایرنو‘‘ میں 70 ہزار یا اس سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔
جادوگروں کا شہر
سوڈانوں کے تخیلات میں یہ تصور پختہ ہوگیا ہے کہ ’’مایرنو‘‘ عظیم جادوگروں، غیر معمولی مالکوں اور روحانیت سے آشنا افراد کا گڑھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عقائد کی وجہ سے ہی یہ علاقہ سیاست دانوں، سینئر اور جونیئر حکومتی عہدیداروں کے لیے ایک مستقل مزار نما علاقے کا روپ دھار گیا ہے۔ موجودہ طاقت کی بنیاد رکھنا یا دوسرے اجنبیوں کو بحال کرنا، مشہور کھیلوں کے کلبوں کے منتظمین کی طرف سے اس کی زیارت کرنا عام ہے۔
کاروباری افراد، تاجر، مرد و خواتین اور لڑکیاں اپنے مسائل کے حل اور اپنی مرادوں کو پورا کرانے کے لیے ’’مایرنو‘‘ کے شیوخ کے پاس آتے ہیں۔ لوگ بغیر کسی مشقت کے ان شیوخ کی حیران کن روحانی طاقت کے ذریعہ اپنے مسائل حل کرانا چاہتے ہیں۔ ’’مایرنو‘‘ کے شیوخ کے حیران کن طاقت کے متعلق بے شمار کہانیاں مقبول ہیں۔
مگرمچھ کا افسانہ
شاید ان میں سب سے زیادہ مشہور سلطان ’’مایرنو‘‘ کے مگرمچھ کا افسانہ ہے۔ یہ مگرمچھ رات ڈھلنے پر گھر میں چہل قدمی کرتا ہے پھر دریا کے کنارے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر صبح قریب آتی ہے تو وہ اپنے درازوں کے پیچھے اور سلاخوں کے پیچھے لوٹ جاتا ہے۔ اس کے لیے لوہے کا پنجرا بنایا گیا ہے۔
تاہم، سلطان ’’مایرنو‘‘ کے پوتوں میں سے ایک مھند عرابی نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ اس خطے میں الخلاوی کے قیام اور حفظ قرآن کی میراث اور تاریخ ہے۔ اس میں ایسے شیخ موجود ہیں جنہوں نے مصر میں الازہر الشریف اور سوڈان کی ممتاز یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ مایرنو میں خطے میں اگنے والی یا نائیجیریا سے درآمد کی جانے والی جڑی بوٹیوں کے ساتھ دواؤں کی تاریخ بھی ہے۔ تاہم وہ خرافات جو اس خطے کے ارد گرد بنی ہوئی ہیں اور اسے جادو ٹونے سے جوڑتی ہیں ان میں سے اکثر غلط اور من گھڑت ہیں۔
مھند عرابی نے کہا یقیناً یہاں ایسے شیخ موجود ہیں جو اپنے حاصل کردہ رازوں کو جادو میں استعمال کرتے ہیں لیکن یہ بہت کم ہیں – لیکن یہ صورت حال تو صرف ’’مایرنو‘‘ کے علاقے تک محدود نہیں پورے سوڈان میں موجود ہے۔ ایسے زیادہ تر لوگ جو مافوق الفطرت لوگوں کی تلاش میں ’’مایرنو‘‘ آتے ہیں، شہر میں گھومتے پھرتے ہیں ۔ انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے ایک سراب کی پیروی کی ہے۔ اور ہم سادہ لوگوں کی بنائی ہوئی ایک سادہ چال کے اسیر ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں