خلیج عرب میں ' قدیم ترین موتیوں کا شہر' دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے انکشاف کیا کہ انہیں ام القوین امارت کے بالکل مشرق میں واقع جزیرہ سینیہ پر خلیج عرب میں موتیوں کا سب سے قدیم قصبہ ملا ہے۔ جہاں صدیوں سے مقامی لوگوں کے روزگار کا انحصار سمندر سے موتیوں کی تلاش پر تھا۔

اگرچہ پرانے تاریخی متون میں موتیوں والے قصبوں کا تذکرہ ملتا ہے مگر یہ پہلی ایسی دریافت ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قصبہ "متحدہ عرب امارات میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے بڑی شہری آبادی والی بستی ہے" ، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں ہزاروں باشندے رہتے رہے ہیں، جن میں سے اکثریت موتیوں کی صنعت پر انحصار کرتے تھے۔

ام القوین محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ کے مطابق، 12 ہیکٹر (30-ایکڑ) پر محیط یہ آثار قدیمہ چھٹی صدی کے آخر اور آٹھویں صدی کے وسط کے درمیانی مدت سے تعلق رکھتے ہیں جو ممکنہ طور پر اسلامی تہذیب کے پھیلاؤ سے پہلے کے ہیں۔

قصبے پر مکانات ساحل سمندر کی مقامی چٹانوں اور آس پاس کے ماحول کے مواد سے بنائے گئے تھے اور ان کی چھتیں کھجور کے تنے سے بنی تھیں۔

متحدہ عرب امارات یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹموتھی پاور، جو اس کھدائی کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، نے کہا کہ اگرچہ یہ مانا گیا ہے کہ اس خطے میں اور بھی موتیوں کی بستیاں کی موجود ہیں، لیکن یہ خاص طور پر منفرد ہے۔ نہ صرف قدامت اور سائز کی وجہ سے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ موتیوں کی تلاش کے لیے عارضی یا موسمی بستی نہیں تھی بلکہ یہ شہر سال بھر چلتا رہتا تھا۔

"یہاں رہائشی بستیوں کا ایک مختلف ترتیب ہے، یہ ایک باقاعدہ قصبہ تھا،" یہ گنجان آباد تھا جس میں مختلف قسم کے مکانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں مختلف سماجی حیثیت کے لوگ یہاں بستے رہے ہیں۔

پاور نے کہا کہ قصبے کے رہائشی ممکنہ طور پر عیسائی تھے، کیونکہ یہ بستی ایک قدیم عیسائی خانقاہ کے قریب واقع ہے جسے ابھی پچھلے سال دریافت کیا گیا تھا۔ عیسائی خانقاہ تقریبا 1,400 سال پرانی ہے۔

کھدائی کا مقام ۔ اے پی فوٹو
کھدائی کا مقام ۔ اے پی فوٹو

ام القوین محکمہ سیاحت کے مطابق، موتیوں کی صنعت، جس میں سمندروں اور جھیلوں میں پائے جانے والی سیپیوں سے موتی برآمد کرنے والے غوطہ خور شامل ہیں، 7,000 سال سے زیادہ عرصے سے خطے کے اس ورثے کا حصہ ہیں۔

پاور نے کہا، "ہم تاریخی حوالوں سے جانتے ہیں کہ اس دور میں موتیوں کی دیگر اہم منڈیاں بھی تھیں،"لیکن یہ واضح ہے کہ نئے دریافت ہونے والے قصبے کے لیے موتی ایک اہم صنعت تھی۔"

انہوں نے کہا کہ موتیوں کے کاروبار کے عروج کے اوقات میں، لوگوں کی بڑی تعداد اس صنعت سے وابستہ تھی۔ پڑوسی امارت ابوظہبی میں، انہوں نے مزید کہا، 19 ویں صدی میں تقریباً دو تہائی مرد موتی کی صنعت سے وابستہ تھے۔

ام القوین کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ، یو اے ای یونیورسٹی، امارات میں اطالوی آثار قدیمہ کا مشن اور نیویارک یونیورسٹی میں قدیم دنیا کے مطالعہ کے انسٹی ٹیوٹ نے اس کھدائی میں حصہ لیا۔

ام القوین امارات اب اس جگہ کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں