شاخ زیتون امن کی علامت کے سوا بھی اہمیت رکھتی ہے!

زیادہ تر تہذیبوں نے زیتون کے درخت کی خوشحالی کو سلامتی سے جوڑا کیونکہ جنگ کے ادوار میں اس کی نشو نما نہیں ہوتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

"زیتون کی شاخ" کی کہانی دو جہتی کہانی ہے۔ پہلی جہت افسانوی ہے، جس میں بنیادی کہانی کبھی کبھی خیالی باتوں میں الجھی جاتی ہے۔ یہ کہانی قدیم و جدید دنیا میں امن کی علامت کے طور پر زیتون کے کردار سے جڑی ہوئی ہے۔ جب کہ اس کہانی کی دوسری جہت ایک حقیقت پسندانہ، ٹھوس جہت ہے جسے نظر انداز یا اس پر چشم پوشی نہیں برتی جا سکتی کیونکہ یہ بیک وقت ایک غذائی، طبی اور اقتصادی جہت ہے۔ اس کے باوجود اس درخت کی شاخ نے مختلف زمانوں میں بہت توجہ حاصل کی، کیونکہ اس نے مادی اقدار پر انسانی تخیل کی فتح کو اس کہانی کے ذریعے مجسم کیا۔ امن کی علامت کے طور پر اس کے افسانے نے اسے درخت سے بھی زیادہ مشہور کر دیا۔ زیتون کا ذکر ہمارے ذہنوں حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں سیلاب کے افسانے سے جڑا ہوا ہے جنہیں پوری انسانیت کو مٹنے اور معدوم ہونے سے بچانے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ اس لیے حضرت نوح کو ’آدم‘ کے بعد انسانیت کا دوسرا باپ قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنا مشہور جہاز بنانے کے بعد اس کا سہرا لیا تھا جو ہر جنس کے جوڑے لے کر زمین کی تلاش میں سمندر میں گھومتا تھا۔

طوفان اور حضرت نوح علیہ السلام

وہ سیلاب جس سے حضرت نوح فرار ہوئے تھے کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسی مطالعات کے مطابق 12,000 سال قبل برفانی دور میں برف پگھلنے سے آیا۔ پھر تقریباً سات ہزار سال قبل تُرکیہ کی طرف بڑھا تھا، لیکن فوسلز کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سومرا اور میسوپوٹیمیا میں بھی سیلابوں کا ایک سلسلہ آیا جو2000-4000 قبل مسیح کے دور تک چلا۔ چنانچہ سیلاب کے افسانوں اور اس سے نسل انسانی کی بقا کے بارے میں کئی کہانیاں سامنے آئیں۔ نیز نوح کی شخصیت سے ملتی جلتی کئی شخصیات اور اس کی کہانی سے ملتی جلتی کہانیاں بہت سی قدیم تہذیبوں میں دہرائی جاتی ہیں، جن میں "ڈیوکیلین" کا کردار، "ہیلن" کا باپ جو یونانیوں کا جد امجد تھا، سومرہ میں اتراحاسیس اور آئرش کی ملکہ آئرش سیلاب کی وجہ سے مشہور ہیں۔

مذہبی روایت

زیتون کی شاخ امن کی علامت کے طور پر ایک اور آئیکن کبوتر کے ساتھ منسلک تھی۔ پھر کسی نہ کسی طرح شاخ زیتون کا کبوترکےساتھ تعلق ختم ہوا حالانکہ اس کے بارے میں اصل روایت نوح اور ان کی کشتی کی کہانی پر مبنی ایک مذہبی روایت ہے۔ بنیادی کہانی کہتی ہے کہ جب نوح ہماری نسل کی باقی ماندہ چیزوں کو اپنے جہاز میں لے جاتے ہوئے کھلے سمندر میں گم ہو گئے تو انہوں نے زمین کی کھوج کے لیے بہت سے پرندے بھیجے۔ ان میں سے صرف کبوتر ہی واپس آیا۔ اس کے پنجوں میں مٹی کے نشانات تھے اور اس کے منہ میں زیتون کی مشہور شاخ تھی۔ یعنی کبوتر نے ہماری نسل کو بچانے کا کام پورا کر دیا۔ پھر بھی سارا کریڈٹ ایک سبزٹہنی کو گیا۔ متواتر روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی پھل دار درخت کی فضیلت جس سے شاخ نکلی تھی، اس کے صحت کے فوائد اور غذائی فوائد کا ذکر بعد میں آسمانی کتابوں بالخصوص بائبل اور قرآن میں کیا گیا ہے، اس نے اس روایت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح مذہبی روایت میں شاخ زیتون کی وقعت اور قدرو منزلت اور گہری ہوتی چلی گئی۔

شاخ کی کہانی

زیتون کی شاخ کی کہانی یونان میں شروع ہوتی ہے جہاں انہوں نے اسے اولمپک گیمز کے لیے ایک علامت کے طور پر لیا۔ اس لیے انہوں نے اسے مشعل کے طور پر استعمال کیا کیونکہ شاخ مضبوطی سے جل رہی تھی اور ان کے لیے یہ طاقت کی علامت تھی امن کی نہیں۔ لیکن قدیم تہذیبوں نے عموماً امن سے جڑی شاخ کے افسانے کو تسلیم کیا، کیونکہ وہ تہذیبیں جنہوں نے زیتون کا درخت لگانے کا طریقہ سیکھا اور اس کے فائدے اور فضیلت نوح کی کہانی کے بعد عملی تجربے سے سیکھی کہ اس پودے کو کھلنے کے لیے خاص حالات کی ضرورت ہے۔ یہ پھل دیتا ہے کیونکہ یہ طویل عمر پانے والا پودا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں سے کچھ ایک ہزار سال سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ درخت کو پھل پیدا کرنے کے لیے ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے اور اسے ایک مخصوص ماحول اور مناسب ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، زیادہ تر تہذیبوں نے درخت کی خوشحالی کو امن سے جوڑا، کیونکہ جنگ کے ادوار میں درخت کا مکمل طور پر بڑھنا ناممکن ہے جو اس کی نشوونما میں خلل ڈالتی ہیں۔

پتے اور ٹہنی کے فوائد

کبوتر کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کے قصے کی مذہبی روایت کے مطابق لوگوں کو زیتون کے درخت کی شاخ کا علم پہلے ہوا۔ بعد میں انہیں پورے درخت اور اس کے فواید کا پتا چلا۔ یعنی شاخ زیتون کے پورے درخت کا ایک چھوٹا حصہ ہے جس کی اہمیت کا اندازہ پہلے ہوا۔ شاخ کی ایک علامتی اہمیت تھی جو پورےدرخت سے بھی بڑھ گئی۔ شاید متضاد طور پر شاخ کی اہمیت بعد میں حقیقت پسندانہ طور پر لوگوں کو درخت کے باقی اجزاء کے اندر اس کے براہ راست فوائد کے احساس کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ زیتون کے پتوں کو ابال کر پیا جاتا تاکہ ذیابیطس اوربلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں کا علاج کیا جا سکے۔ جزیرہ نما عرب کے علاقے میں جہاں اس درخت کی افزائش بہت کم ہوتی ہے وہاں کے کچھ لوگ اس کے پھلوں یا اس کے قیمتی تیل سے زیادہ اس کے پتے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسے منہ، دانتوں اور مسوڑھوں کے انفیکشن کے علاج کے لیے بھی چبایا جاتا ہے جبکہ اسی شاخ یا تنے کو قیمتی لکڑی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ "اس کا تیل اسی سے اور اسی میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پھل کی اہمیت بھی ہے جو پروسیسنگ کے بعد کھایا جاتا ہے۔ اس کا پھل دسترخوانوں پرایک مطلوبہ ڈش میں بدل جاتا ہے۔ جہاں تک پھلوں کو نچوڑنے کا تعلق ہے تو جب وہ سیاہ رنگ اختیار کرتے ہیں تو یہ ان کے مکمل پکنے کی علامت ہے۔ اس کے بعد ان سے قیمتی تیل نکالا جاتا ہے جس کی بے شمار خصوصیات اور طبی فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔

آج کے دور میں

امن کی علامت کے طور پر زیتون کی شاخ کی علامت آج تک موجود ہے لیکن اس علامت کا ذکر تنازعات اور جنگوں کے دور میں بڑھ جاتا ہے، چنانچہ اقوام متحدہ نے اسے اپنے لوگو کی علامت بنایا جس میں زیتون کی دو شاخیں گلے لگتی ہیں اور مشہور ہلکے نیلے رنگ کے پس منظر میں دو بریکٹ میں دنیا کے نقشے کو گھیر لیتی ہیں۔ شاید ہمارے دور حاضر میں سیاسی طور پر اس علامت کا بہترین اظہار مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرفات کا وہ مشہور جملہ ہے کہ ’’میرے ہاتھ سے زیتون کی شاخ نہ گراؤ‘‘۔ انہوں نے امن معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل اقوام متحدہ کے سامنے یہ جملہ دہرایا تھا جب فلسطینی اور اسرائیلی پہلی بار امن معاہدہ کرنے کا جا رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں