الجزائریوں کے دستر خوان کی زینت ’’شوربہ ‘‘، ماہ رمضان کی خاص ڈش

اسی سوپ سے روزہ افطار کیا جاتا، سبزیوں اور گوشت سے بھرپور پکوانوں میں شمار کیا جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

الجزائر کے لوگوں کا ’’ شوربہ‘‘ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، کوئی گھر ایسا نہیں ہے جو رمضان کا پورا مہینہ اس ڈش کی خوشبو کے بغیر ر ہے اور اس ڈش کو اپنے دسترخوان کی زینت نہ بناتا ہو۔ بہت سے لوگوں کے لیے رمضان کی آمد کا اعلان در اصل ’’ سوپ‘‘ کھانے کا اشتہار ہے۔

’’ شوربہ‘‘ کی تاریخ کیا ہے، اس سے متعلق مورخین کا اختلاف ہے۔ بعض مورخ کہتے ہیں کہ اس کا نام سلطنت عثمانیہ سے لیا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ اسے فارسی لفظ کہتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ یہ اندلس کا پکوان ہے۔ عربی زبان میں، "شوربہ" کا مطلب ایک مشروب یا پانی کی مقدار ہے۔ ’’شور ‘‘ کا معنی وہ پانی ہے جو بجھ جاتا ہے اور نمکین ہوجاتا ہے۔ ’’ بہ‘‘ کا معنی چمچ سے کھایا گیا کھانا ہے۔ اس طرح اس ’’ شوربہ‘‘ کا معنی چمچ سے کھایا جانے والا نمکین پانی ہوگا۔

جشن کی علامت

الجزائر میں عام طور پر "البوراک" کے ساتھ ’’ شوربہ‘‘ کھایا جاتا ہے۔ البوراک دارالحکومت اور ٹیپازا جیسے علاقوں میں گھروں میں تیار کی جانے والی ایک روایتی روٹی ہے۔ ’’ شوربہ‘‘ تیار کرنے والی ایک خاتون ’’بایہ‘‘ نے اس شوربے یا سوپ کے متعلق گفتگو کی۔ بایہنے فخریہ انداز میں بتایا کہ یہ وہ ڈش ہے جسے رمضان المبارک کے مہینے میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔

یہ ڈش ایک سفر کے بعد تیار کی جاتی ہے۔ یہ سفر ہم ’’فریک‘‘ کی تلاش میں کرتے ہیں۔ فریک کو گندم اور جو کے خوشوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ’’شوربہ فریک‘‘ کی یہ ڈش خاندان میں عام طور پر قبول کی جاتی ہے۔ اس میں پیاز، تازہ اور پراسیس شدہ ٹماٹر، پانی میں بھگوئے ہوئے گوشت اور چنے کی ایک مقدار پر شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ "قصبر" بھی شامل کی جاتی ہے۔ قصبر کو مقامی طور پر "اچار والی حشیش " کہا جاتا ہے۔ اس میں اجوائن، پودینہ اور کچھ دوسرے مسالے شامل کیے جاتے ہیں جو اس ڈش کو مزیدار بنا دیتے ہیں ۔ ان مسالوں میں کالی مرچ بھی ہوتی ہے۔ کالی مرچ دار چینی کے ساتھ الجزائر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مسالا ہے۔ ان اجزا کو مقامی گھی کے ساتھ آگ پر تلا جاتا ہے۔ قدرتی سبز رنگ میں "فریک" روایتی طریقے سے گھروں میں تیار کیا جاتا ہے۔

الجزائر کے لوگ "شوربہ " ڈش کو کئی دہائیوں تک محفوظ رکھنے اور اسے اپنے بچوں تک پہنچانے کے قابل تھے، اور 2022 کے آغاز میں "سی این این " کی ایک رپورٹ نے دنیا بھر میں سوپ کی 20 بہترین اقسام کی درجہ بندی کی تھی۔ الجزائر کا یہ سوپ جسے ’’ شوربہ‘‘ کا جاتا ہے اسے چھٹے نمبر پر رکھا گیا تھا۔

اس سوپ کے عام طور پر ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں نام بدل جاتے ہیں۔ وسطی الجزائر میں اسے "شوربہ" یا "فریک" کہا جاتا ہے۔ مشرقی الجزائر میں اسے اکثر "الجاری" کہا جاتا ہے، مغربی الجزائر میں اسے "طبق الحریرہ " کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔دوسرے علاقوں میں اسے " الدشیشہ" بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخی حوالہ جات اس بات پر متفق ہیں کہ "الحریرہ" کا ماخذ اندلس سے ہے اور سیاح ابن بطوطہ نے اس کی ابتدا کے بارے میں کتاب "تحفۃ النظار فی غرائب الامصا و عجائب الاسفار" میں بیان کیا ہے۔ الحریرہ ایک مکمل کھانا ہے جو اندلس میں مشہور ہے ۔ اسے گندم، مکئی، آٹے اور جو سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ کھانا عرب مغرب ملکوں خصوصاً تیونس، الجزائر اور مراکش میں پھیل گیا۔ دیگر مطالعات کے مطابق اس ڈش نے 902 عیسوی میں اندلس کے ملاحوں کے ذریعہ قرطبہ کے امیروں کی حمایت سے الجزائر کے دروازے پر دستک دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں