رمضان دسترخوان پر روزانہ سوپ کھانے کے متعدد فوائد

سوپ گھر میں بنایا جائے، ریڈی میڈ میں سوڈیم اور نقصان دہ سیچوریٹڈ فیٹس ہوتی ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سوپ کا ایک گرم پیالہ شکم سیری اور گرمی کا احساس فراہم دیتاہے۔ یہ فائدہ کسی خاص سوپ سے متعلق نہیں بلکہ سوپ گاڑھا ہو، کریمی ہو یا شوربہ والا ہو، روزہ دار کو معمول سے ہٹ کر درکار غذائیت فراہم کر سکتا ہے۔ اس طرح ماہ مقدس میں سوپ ایک اچھا انتخاب ہے۔ سوپ سے متعلق کچھ حقائق مد نظر رکھے جانے چاہیں۔

ویب سائٹ "Eat This Not That" کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گرم سوپ کھانے سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ تحفظات بھی ہیں۔

1. شکم سیری کا زیادہ اور تیز احساس

ماہر غذائیت لورا بوراک بتاتی ہیں کہ وہ غذائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ تیزی سے سیری کا احساس دلاتی ہے۔ کسی بھی کھانے کا سوپ یا سلاد سے آغاز کیا جائے تو یہ سیر ہو جانے کا ایک احساس فراہم کرتا ہے اور زیادہ کھانے سے بچاؤ کا ذریعہ بنتا ہے ۔ سوپ چاہے زیادہ مقدار میں پانی یا کم کیلوریز والی غذاؤں پر مشتمل ہو سیری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکمل طور پر سیر ہونے کا احساس کرتے ہوئے بھی کم کیلوریز استعمال کی جا سکتی ہیں۔

2. مفید اور متنوع ایڈ آنز

بوراک تجویز کرتی ہیں کہ سوپ میں غذائی اجزا سے بھرپور غذائیں ہونا چاہیں تاکہ بھوک کے احساس اور زیادہ کھانے سے بچ سکیں۔ اس کے لیے آپ کو کم سوڈیم والے سوپ کھانے پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ سوپ ایسا ہونا چاہیے جس میں سبزیاں، مصالحے، فائبر سے بھرپور اناج، پھلیاں، مٹر اور دال ہوں۔

3. کم کیلوریز

آپ کم کیلوریز کے لیے زیادہ غذائی اجزاء حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سوپ دراصل وزن میں کمی اور موٹاپے کے خطرے کو کم کرنے کا ایک اہم عنصر ہے۔ ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ’’کک بک‘‘ کے مصنف اور غذائیت کے ماہر ڈاکٹر ٹوبی امیڈور کا خیال ہے کہ سوپ میں غذائیت کا ایک بہترین ذریعہ بننے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر سوپ کی ڈش شوربے پر مبنی ہو اور اس میں بہت ساری سبزیاں اور پھلیاں ہوں تو پھر یہ فائبر، اینٹی آکسیڈینٹ، وٹامن اے اور سی اور پوٹاشیم حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

ڈاکٹر بوراک کہتی ہیں کہ شوربے پر مبنی سوپ غذائیت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے خاص طور پر اگر اس میں سبزیاں، پھلیاں یا دال موجود ہو۔

4. کریمی سوپ سے پرہیز کریں

ماہرین نے کریمی سوپ کھانے سے خبردار کیا ہے۔ یہ سوپ شوربے کے بجائے مکھن اور چکنائی سے بھرپور دیگر اجزاء پر انحصار کرتا ہے ۔ اس میں کیلوریز اور سیچوریٹڈ فیٹس کی زیادہ مقدار ہوتی ہے ۔ بہت سے غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سوپ کا انتخاب کرتے وقت یہ جاننا ضروری ہے کہ کوئی بھی سوپ جس میں چکنائی کی مقدار موجود ہو، کریم بہت زیادہ ہو اورچربی کا مواد موجود ہو اس سے گریز کرنا بہتر ہے۔ شوربے کی بجائے بھاری کریم کے ساتھ بنائے گئے سوپ کیلوری کے بم ہو سکتے ہیں۔ ان میں سیر شدہ چکنائی زیادہ ہوتی ہے جو دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

5. بہت زیادہ سوڈیم

ڈاکٹر امیڈور اس بات سے اتفاق کرتے اور کہتے ہیں کہ اس طرح کے سوپ غیر صحت بخش ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں سیر شدہ چکنائی ہوتی ہے جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہے ۔ سیچوریٹڈ چربی زیادہ ہونے کے ساتھ ایسے کریمی سوپ میں سوڈیم کی ضرورت سے زیادہ مقدار بھی ہو سکتی ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کے مطابق اوسطاً فرد روزانہ 2300 ملی گرام سوڈیم سے زیادہ استعمال نہ کرے لیکن چکن سوپ کے ایک باقاعدہ کین میں فی سرونگ 890 ملی گرام سوڈیم ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر بوراک بتاتے ہیں کہ اگرچہ سوپ ایک صحت بخش آپشن ہو سکتا ہے لیکن اس میں سوڈیم کی زیادہ مقدار ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر جب آپ اسے گھر پر تیار کرنے کے بجائے ریڈی میڈ خریدتے ہیں۔ ڈاکٹر بوراک نے مشورہ دیا کہ سوڈیم کی زیادہ مقدار کھانے سے گریز کریں اور گھر کے بنے ہوئے شوربے پر ہی انحصار کریں۔

غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سوپ کو ریستورنٹ میں آرڈر کرنے یا تیار پیکج خریدنے کے بجائے گھر پر بنانا صحت کے لیے بہترین آپشن ہے۔ گھر میں سوپ تیار کرتے وقت نشاستہ دار سبزیوں جیسے آلو یا کدو پر انحصار کرنا بہتر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں