قطائف: مصر میں چاند کی شکل کی مٹھائی روزہ داروں کی محبوب ڈش

حیرت انگیز ذائقہ کے باعث اس سے محبت پر سب کا اتفاق ، اس کی اصل اور تاریخ پر اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطائف وہ میٹھی ڈش ہے جو مقدس مہینے رمضان المبارک کے ساتھ خاص طور پر منسلک ہے۔ مصر میں چاند ہی شکل لیے ہوئے اس ڈش کا رمضان میں روزہ داروں کو شدت سے انتظار ہوتا ہے۔ میٹھے میں یہ ڈش سب سے اوپر ہے۔

مصر اور بلاد شام میں رمضان المبارک میں قطائف کو شوق سے کھایا جاتا ہے۔ قطائف کے حیرت انگیز ذائقہ کےباعث اس کی محبت پر سب کا اتفاق ہوتا ہے تاہم اس مشہور میٹھے کھانے کی اصل اور تاریخ کے حوالے سےماہرین میں اختلاف موجود ہے۔ اسلامی تاریخ کےمحقق ڈاکٹر احمد عادل نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو اس کی تاریخی اصلیت سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر احمد عادل نے کہا کہ قطائف کے ظہور کی تاریخی ابتدا کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مورخین اسے اموی خلیفہ سلیمان ابن عبد الملک کے دور سے نکالتے ہیں۔ سلیمان نے نے سنہ 96 اور 99 ہجری کے درمیان حکومت کی تھی۔ کچھ لوگ قطائف کو عباسی دور سے جوڑتے ہیں۔ ابن الرومی کی شاعری میں قطیف کا ذکر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ قطائف کھانے کا دلدادہ تھا۔

قطائف سے محبت

ڈاکٹر احمد عادل نے مزید بتایا کہ فاطمی دور کی طرف جانے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے مصر میں قطائف کے پھیلاؤ کو اس دور میں پھیلایا تھا۔ چھونے سے محسوس ہونے والی نرمی کے باعث اسے قطیفہ کہا گیا۔ مملوکوں کے دور میں مصر میں شاعروں سے شاعری میں قطائف کا ذکر کیا ہے۔

شاعر ابو الحسین المنصور الجزار نے کنافہ اور قطائف کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدا کی قسم کنافہ اورقطائف سے بڑھ کر کوئی چیز ان سے زیادہ لذیذ نہیں کھائی ہے۔

قطائف ایک سیال پکے ہوئے آٹے سے بنایا جاتا ہے جسے گری دار میوے یا کریم سے بھرا جاتا ہے اور اس میں چینی اور پانی کا شربت ڈال کر ٹھنڈا کرکے کھایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں