ٹینک میوزم میں بنی ٹک ٹاک ویڈیو پر اردن میں غصہ

فوجی وردیاں پہن کر مرد و خواتین نے طنز و مزاح کے ساتھ تاریخ کا غلط استعمال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن میں ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک ویڈیو پر غم و غصہ سے بھر گئیں۔ وجہ دارالحکومت عمان کے رائل ٹینک میوزیم میں ایک تصویری پروگرام بنا۔ ناظرین نے اس پروگرام کو دیکھا اور بڑی تعداد نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

ٹک ٹاک کی کچھ مشہور شخصیات اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کی جانب سے ٹینک میوزیم میں ایک مقابلے کے پروگرام کی فلم بندی نے اردن کے لوگوں میں غصے کی لہر دوڑا دی۔

تاریخ کا غلط استعمال

اس پروگرام کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے تو صارفین نے اس کی اجازت دینے والے ذمہ داروں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگوں کے غصہ کی وجہ پروگرام کا سیگمنٹ ’’ اپنے روزے کا مزہ لیں‘‘ تھا۔ یہ سیگمنٹ ’’ رغدہ، مکس اورضحی‘‘ پروگرام کا حصہ تھا۔ اس سیگمنٹ میں نوجوان مرد اور خواتین کو فوجی لباس پہنے ہوئے دکھایا گیا اور ان کے درمیان مزاح پر مبنی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میں تاریخ کا غلط استعمال کیا گیا۔کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ رائل ٹینک میوزیم میں جس چیز کو انہوں نے "طنز" کے طور پر بیان کیا اس کا ذمہ دار کون تھا، اور کس نے نوجوانوں کو ایسی جگہ پر "طنزیہ" پروگرام فلمانے کی اجازت دی جس میں فوج کی تاریخ دکھائی گئی ہو۔

ٹینک میوزیم کی وضاحت

رائل ٹینک میوزیم کے ایک ذریعہ نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر ایک تفریحی مقابلے کے پروگرام کے بارے میں جو تنقید پھیلائی گئی تھی۔ اس پروگرام کو میوزیم کے اندر فلمایا گیا تھا اور اردن کی ایک کمپنی نے اشتہارات اور فنکارانہ پروڈکشن کے لیے نشر کیا تھا۔ اس میں غلط معلومات شامل تھیں۔

رائل ٹینک میوزیم کے ایک ذریعے نے مقامی "المملکۃ" چینل کو بتایا کہ اس ویڈیو میں ٹینکوں کے متعلق غلط معلومات شامل ہیں۔ اسی کے حوالے تنقید کی گئی۔ مقابلہ کرنے والوں کے استعمال کردہ لباس کے بارے میں میں بھی تنقید کی گئی ہے۔

میوزیم کے مخصوص ہالوں میں پروگرام کی عکس بندی کے پیچھے کیا مقصد تھا؟ اس کے متعلق ذریعہ نے بتایا کہ اس کا مقصد نوجوان نسل کے ایک زمرے کو میوزیم کا دورہ کرنے اور اس کی نمائشوں اور میوزیم کی کہانیوں کو دیکھنے کے لیے راغب کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں