رمضان میں کھانے کے ضیاع سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ سعودی اتھارٹی کی تجاویز

سعودی عرب میں سالانہ 10.66 ارب ڈالر مالیت کی خوراک کا ضیاع؛ چاول اور کھجوریں سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماہِ مقدس رمضان کے دوران میں کھانے کے ضیاع کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی جنرل فوڈ سکیورٹی اتھارٹی (جی ایف ایس اے) نے متعدد تجاویز جاری کی ہیں۔ان سے روزہ داروں کو زیادہ پائیدار کھانے اورافطار کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ تجاویز جی ایف ایس اے کے خوراک کے ضیاع اور فضلے کو کم کرنے کے لیے قومی پروگرام کا حصہ ہیں۔اتھارٹی نے انھیں سوشل میڈیا پراس ضمن میں گذشتہ ہفتے برپا کردہ مہم کے حصے کے طورپرجاری کیا ہے۔

اس مہم کا مقصد شہریوں میں غذائی تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کرنا،خوراک کے ضیاع کی روک تھام کرنا ہے اور لوگوں کو اچھی اور صحت مند خوراک لینے کے طریقوں کو برقراررکھنے کی ترغیب دیناہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں جی ایف ایس اے نے کہا کہ مملکت میں خوراک کے ضیاع اور فضلے کی شرح قریباً 33 فی صد ہے اور خوراک کے ضیاع کی مالیت کا سالانہ تخمینہ 10.66 ارب ڈالر (40 ارب ریال) لگایا گیا ہے۔

خوراک کے ضیاع کی روک تھام میں مدد کے لیے یہ مہم لوگوں پر زوردیتی ہے کہ وہ سب سے پہلے افطار دسترخوان پرجوکھانے چاہتے ہیں،ان کا تعیّن کریں۔ کھانے کے انتخاب میں تنوع پیدا کریں لیکن کم مقدارمیں باقی بچ جانے والے کھانے کو چھوٹے ڈبوں میں محفوظ کریں تاکہ بعد میں اسے استعمال میں لایاجاسکے۔

اس نے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ کھانا بناتے وقت اعتدال کا راستہ اختیارکریں اور غیر ضروری طورپر زیادہ مقدار میں کھانے نہ بنائیں،بالخصوص چاول اتنے ہی پکائیں جتنے خاندان کی ضرورت ہیں۔

مہم نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ چاول ایک اہم کھانا ہے اور یہ بڑی مقدارمیں ضائع ہوجاتا ہے۔پکے ہوئے چاول کے ضیاع کی شرح31 فی صد ہے۔

کھجورکا بھی یہی حال ہے۔کھجوررمضان میں ایک لازمی عنصر ہے اور عام طور پر روزہ کھجور ہی سے افطارکیا جاتا ہے۔تاہم، مہم میں نوٹ کیا گیا ہے کہ ضائع ہونے والی کھجوروں کی مقدار کا تخمینہ سالانہ 36 ہزارٹن سے زیادہ ہے۔

مزید برآں ،مہم میں نوٹ کیا گیا ہے کہ سپرمارکیٹ جانے سے پہلے اشیائے صرف کی فہرست کی تیاری ایک اچھی حکمتِ عملی ہے۔اس صورت میں لوگ ایسی مصنوعات خریدنے سے بچ سکتے ہیں جن کی انھیں فوری یا اشد ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

اس فہرست سے سُپرمارکیٹ میں اشیاء کی تلاش میں صرف ہونے والے وقت کی بچت بھی ہوسکتی ہے۔رقم کوناگزیراشیاء کی خریداری کے لیے بچایا جاسکتا ہےاور بالآخرکھانے پینے کی اشیاء کے ضیاع کو روکنے میں مددمل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں