مریخ اور چاند کے ملاپ کا دلکش منظر جسے عام آنکھ سے دیکھا گیا

چاند شمال مشرقی افق سے دوپہر سے قبل طلوع ہوا اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی آسمان کے بلند ترین مقام پر پہنچا۔ رات ہونے کے بعد چاند گنبد پر مریخ کے قریب پہنچ گیا۔ اس طرح چاند مریخ سے دو ڈگری الگ دکھائی دیا اور یہ منظر عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے شہر جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے مطابق رمضان کے بابرکت مہینے کے چاند کی پہلی تاریخوں کے دوران محض عام آنکھ سے چاند اور مریخ کے ملاپ کا دلکش منظر گذشتہ روز دیکھا گیا۔

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نے بتایا کہ چاند شمال مشرقی افق سے دوپہر سے پہلے طلوع ہوا اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی آسمان کے بلند ترین مقام پر پہنچا۔ رات ہونے کے بعد چاند گنبد پر مریخ کے قریب پہنچ گیا۔ اس طرح چاند مریخ سے دو ڈگری الگ دکھائی دیا اور یہ منظر عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "چاند اور مریخ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد تک آسمان پر موجود رہے اور اس واقعہ کا ہمارے سیارے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔"

ابو زہرہ نے وضاحت کی کہ یہ علامات پہلی سہ ماہی کی مدت کی نشاندہی کرتی ہیں جب چاند کا آدھا حصہ روشن ہوتا ہے اور باقی نصف تاریک ہوتا ہے۔ یہ بڑی یا چھوٹی دوربین سے چاند کی سطح کی ٹاپوگرافی کو مانیٹر کرنے کا بہترین وقت ہے۔ اس میں پہاڑ، گڑھے اور دیگر نشانات بہت واضح ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹے بعد چاند مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق صبح 05:32 پر پہلی سہ ماہی کے لمحے پر پہنچ جائے گا اور اس مہینے میں زمین کے گرد اپنے مدار میں ایک چوتھائی فاصلہ مکمل کر چکا ہو گا۔

ماجد ابو زاھرہ نے نشاندہی کی کہ آئندہ چند دنوں کے دوران آسمان کے گنبد میں چاند اور سورج کے درمیان فاصلہ ہر روز بڑھتا جائے گا۔ چاند پورے چاند کے قریب آنے کے ساتھ ہی دوپہر کو طلوع ہونے کے بجائے تاخیر سے غروب آفتاب کے ساتھ طلوع ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں