سعودی عرب: تاریخی ’’ مسجد المسقی‘‘ 13 صدیوں بعد پھر نئی دکھائی دینے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں ابھا شہر سے لگ بھگ 32 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع گاؤں المسقی کے مشق میں 13 صدی قدیم ’’ مسجد المسقی‘‘ موجود ہے۔ یہ مسجد 73 سے 75 ہجری کے درمیان تعمیر کی گئی تھی۔ یہ عسیر کے علاقے کی سب سے قدیم مسجد ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے ’’تاریخی مساجد کی بحالی منصوبہ‘‘ کے دوسرے مرحلے میں اس مسجد کی بحالی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ خاص طور پر اس تاریخی مسجد کے آگے والے حصے کو دوبارہ نیا کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ مسجد کو عبادت گزاروں کے لیے بحال کیا گیا ہے۔

22
22
Advertisement

’’ مسجد المسقی‘‘ کی خصوصیت میں یہ بات بھی ہے کہ اس کا ڈیزائن السراۃ طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ وہ ماڈل ہے جس پر عمارت کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ تعمیر کے بعد اس کا رقبہ 405.72 مربع میٹر ہے۔ مسجد میں نمازیوں کے بیٹھنے کی گنجائش 156 ہوگئی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس مسجد کی آخری تعمیر نو 1397 ہجری میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد حالیہ سالوں میں اس کی عمارت میں توڑ پھوڑ کے آثار ظاہر ہوگئے تھے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا ’’تاریخی مساجد کی بحالی کا منصوبہ تاریخی اقدار کے تحفظ اور مسجد المسقی کے جمالیاتی عناصر کو بحال کرنے کے لیے بھی کام کرے گا۔ اس کی تعمیر کو سروات پہاڑ کے پتھروں اور مقامی لکڑی کے قدرتی مواد سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ اس کی چھتوں، ستونوں، کھڑکیوں اور دروازوں میں میں قدرتی لکڑی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے مینار کی اونچائی 12.7 میٹر ہے۔ یہ مسجد اپنی تعمیر کے انداز میں منفرد ہے۔ یہ پہاڑوں کی بلندی پر دیہاتوں اور راستوں میں موجود عمارتوں کی طرز کے ساتھ شہری انداز لیے ہوئے ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب السراۃ طرز میں تعمیر کی جانے والی مساجد میں تعمیر کی بہت سی شکلیں ہیں ’’مسجد المسقی‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت "مٹی کے پتھر" ہیں کیونکہ اونچائیوں میں پتھر کی عمارتوں کے ساتھ ساتھ مٹی کی عمارتیں بھی عموماً نظام پر انحصار کرتی ہیں۔ موٹی دیواروں کو بارش سے بچانے اور سایہ فراہم کرنے کے لیے "رقف" کا استعمال کیا گیا ہے۔ مینار میں الگ مواد استعمال کیا گیا ہے۔ یہ طرز عسیر کے علاقے کی دیگر مساجد کی طرح منفرد ہے۔ آب و ہوا کے عوامل، جگہ کی نوعیت، سماجی اور ثقافتی عوامل کے باعث عمارتوں کے نمونے تشکیل پاتے اور سامنے آتے ہیں۔

مسجد المسقی کو شہزادہ محمد بن سلمان کے ’’ تاریخی مساجد کی بحالی‘‘ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے 30 مساجد کی تعمیر نو اور بحالی کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں