سعودی عرب میں مستقبل کے شعبے کے طور پر گیمنگ انڈسٹری پروان چڑھ رہی ہے: شہزادہ فیصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"ہم نوجوان نسل کے لیے مستقبل کے کیریئر کے طور پر گیمنگ انڈسٹری کو بطور ٹول استعمال کر سکتے ہیں، ا س میں بہت سے مختلف شعبے ہیں جن کے لیے نئی نسل جنون رکھتی ہے، اور بہت کچھ ایسا ہے جس سے آپ لطف اندوز ہوتے ہیں۔"

ان خیالات کا اظہار سعودی ای سپورٹس فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ فیصل بن بندر نے میامی میں مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی) ترجیح کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران انہوں نے گیمنگ کے مثبت پہلوؤں، سعودی عرب میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور کیسے نوجوان نسل اسے کیریئر کے طور پر اپنا رہی ہے پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس میں انہوں نے پے ٹو پلے سے فری ٹو پلے ماڈلز میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ گیمرز کو پیسہ کمانے کے قابل بنانے والی نئی ٹیکنالوجیز کی آمد پر تبادلہ خیال کیا اور جدت طرازی میں نوجوان نسل کے کردار اور انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

شہزادہ فیصل نے کہا: "نئی ٹیکنالوجیز، نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب 3 کی آمد کے ساتھ، آپ "فری ٹو پلے" سے "پیڈ ٹو پلے" کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں اصل میں کھیل آپ کے پیسے خرچ کرنے کے بجائے کمانے کا طریقہ بن جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اس نئے رجحان آکو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارا کام، جو کچھ ہم سعودی عرب اور عالمی سطح پر کر رہے ہیں، وہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرنا ہے۔

انہوں نے متنوع کہانیوں اور گیم کی تخلیق کے لیے قابل رسائی ٹولز کے باعث انڈی گیمنگ کی ترقی کا بھی ذکر کیا۔

فلم اور گیمنگ انڈسٹریز کے درمیان آمدنی کا موازنہ کرتے ہوئے، انہوں نے عالمی سطح پر گیمنگ کی بے پناہ رسائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ
"اگر ہم میڈیا، ٹی وی، فلم، موسیقی کے درمیان تعامل کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو گیمنگ کا پلیٹ فارم ان تینوں کے ملاپ سے بڑا ہوتا ہے ۔۔۔ مثال کے طور پر "اواتار" فلموں کی سب سے بڑی فرنچائز تھی جس کی کل آمدنی تقریباً 3 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پوکیمون گیم، دیگر بہت سی مقبول گیمز میں سے محض ایک ہے۔ اور اس کی آمدنی اسی دوران تقریباً 90 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ گویا دونوں کی رسائی ایک مختلف پیمانے پر ہے۔"


گیمنگ میں صنفی شمولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ سعودی عرب میں گیمنگ کمیونٹی مردوں اور عورتوں کے درمیان تقریباً یکساں طور پر تقسیم ہے، آن لائن شخصیات اور اسٹریمرز کا صنفی تناسب یکساں ہے۔ تاہم، پیشہ ورانہ گیمنگ کے میدان میں، خاص طور پر خواتین کھلاڑیوں کے لیے اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجد فہد کی کامیابی، جس نے کالجیٹ فیفا ورلڈ لیڈیز چیمپئن شپ جیتی اور مملکت کی پہلی بین الاقوامی چیمپئن بنی، نوجوان سعودی خواتین کے لیے ایک تحریک ہے۔


انہوں نے ای سپورٹس اور گیمنگ کے شعبے میں نہ صرف پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے بلکہ تخلیق کاروں، کہانی گوئی، پروڈکشن، قانون اور مالیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی مناسب سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں