مصر: اہرام مارکیٹ میں جانوروں سے بدسلوکی کے ہولناک مناظر

سیاحوں کو سیر کرانے کے قابل نہ رہنے والے اونٹوں کو لاٹھیوں سے مارا اور سڑکوں پر گھسیٹا جارہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چونکا دینے والی فوٹیج میں جانوروں کے تحفظ کی ایک تنظیم نے خوفناک مناظر کی فلم بندی کی ہے جس میں مصر کی "برقاش مارکیٹ" میں کچھ تاجروں کے ذریعہ اونٹوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے کیونکہ وہاں کے آثار قدیمہ کے مقامات پر اونٹوں اور گھوڑوں کو سیاحوں کی خدمت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان مقامات میں جیزہ اور سقارہ کے اہرام شامل ہیں۔

تنظیم "PETA" نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں واضح کیا کہ جب ان جانوروں کو سیاحوں کے ذریعے دوروں یا تصاویر لینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تو یہ تاجر گوشت بیچنے کے لیے ان جانوروں کو بازار میں لے آتے ہیں۔

تنظیم نے الزام عائد کیاکہ کچھ تاجر اونٹوں کو منڈی تک پہنچنے سے پہلے ٹرکوں میں بھرتے ہیں اور جب وہ پہنچ جاتے ہیں تو وہ ان اونٹوں کو لاٹھیوں سے مارتے ہیں۔ اس دوران اونٹوں کے منہ اور دیگر مقامات پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔ تنظیم نے بتایا کہ کچھ اونٹ خونی مکھیوں کے باعث متاثرہ زخموں کا شکار ہیں لیکن ان کا علاج نہیں کیا جارہا۔

دریں اثنا تنظیم ’’ پیٹا ایشیا ‘‘ نے فوٹیج میں دکھایا کہ ایک ٹرک کیسے سڑک کے درمیان ایک اونٹ کو ٹانگ سے کھینچ رہا ہے۔

کچھ کارکن اونٹوں کی ٹانگیں مضبوطی سے باندھ دیتے ہیں تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں یا آزادانہ طور پر حرکت بھی نہ کر سکیں۔

تنظیم ’’ پیٹا‘‘ نے عندیہ دیا کہ اس نے چار سال قبل بھی ایسی ہی ویڈیوز شائع کی تھیں جس کی وجہ سے اس وقت مصری سکیورٹی نے اونٹوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں تین تاجروں کو گرفتار کرلیا تھا۔

واضح رہے ’’پیٹا‘‘ ایک امریکی غیر منافع بخش تنظیم ہے جو جانوروں کے مساوی حقوق کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس تنظیم کا صدر دفتر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ورجینیا میں ہے اور یہ دنیا میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا گروپ ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں