میٹھے کے شوقین افراد کے لیے، رمضان میں میٹھے کھانے کیسے کھائیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

رمضان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سال کا ایک خاص وقت ہوتا ہے، جس کا مقصد تزکیہ نفس، صدقہ خیرات، اور شخصیت میں نظم وضبط پیدا کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وقت میں مل کر کھانے پینے خصوصا افطار کے اجتماعات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوران میٹھے پکوان اور مشروبات کا استعمال بھی کافی بڑھ جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم کلینیکل ڈائیٹشین ڈاکٹر سارہ عبدالغنی کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ شکر والی غذائیں کھانے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔تاہم کبھی کبھار میٹھا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے ہمیشہ اعتدال کے ساتھ کھایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ خوراک میں سے مخصوص گروپ جیسے کہ میٹھے کو ختم کرنا، بھوک، زیادہ کھانے کی طلب یا ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت میں اضافہ کر سکتا ہے۔

 رمضان کے دوران دبئی میں مٹھائی کی دکان سے ایک خاتون مٹھائی خرید رہی ہے:28 مارچ 2023 اے ایف پی
رمضان کے دوران دبئی میں مٹھائی کی دکان سے ایک خاتون مٹھائی خرید رہی ہے:28 مارچ 2023 اے ایف پی

ان کا کہنا ہے کہ"رمضان میں مٹھائیاں بغیر فکر کے آپ کی غذا کا حصہ بن سکتی ہیں اگر آپ اعتدال سے کھاتے ہیں اور ضرورت اور اطمینان کے لحاظ سے اپنے جسم کے اشارے سننا سیکھ جاتے ہیں، اس طریقے سے زیادہ میٹھا کھانے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔"

ہفتے میں دو یا تین بار میٹھا کھانا آپ کی میٹھے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

رمضان کے دوران کم از کم دو متوازن کھانے اور دو مختصر اسنیکس غذائیت کی مقدار کو پورا کرنے کافی ہیں۔ جبکہ ایک میٹھی ٹریٹ – چار انگلیوں یا آپ کے ہاتھ کی ہتھیلی کے برابر۔ ان اسنیکس میں سے ایک کی جگہ لے سکتی ہے۔

تاہم میٹھے کو کبھی بھی صحت مند، متوازن کھانے کی جگہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ آپ کے جسم کو روزے کے دوران غذائیت سے بھرپور غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ ضروری ہے کہ آپ افطار کے فوراً بعد میٹھے کھانے سے گریز کریں۔

 نابلس کی کورڈ مارکیٹ کی الاقصی سویٹ شاپ پر خواتین کنافہ سے لٖطف اندوز ہو رہی ہیں: رائیٹرز فائل فوٹو
نابلس کی کورڈ مارکیٹ کی الاقصی سویٹ شاپ پر خواتین کنافہ سے لٖطف اندوز ہو رہی ہیں: رائیٹرز فائل فوٹو

"افطار کے وقت میٹھے کا زیادہ استعمال کرنے سے ہمارے خون میں گلوکوز اور انسولین کی سطح میں زبردست اضافہ ہو جائے گا، جس سے چند گھنٹوں بعد جب جسم میں انسولین اچانک گرتی ہے تو توانائی میں بڑی کمی واقع ہو جاتی ہے۔"

"توانائی میں اس کمی کے بعد ہمیشہ مٹھائیوں کی شدید خواہش ہوگی۔ جسم پھر سے میٹھا کھانے کی طلب اور توانائی گرنے کے ایک شیطانی چکر میں داخل ہو جائے گا۔"

اس سے اگلے دن قبض، سونے میں دشواری یا نیند میں خلل، کم موڈ اور کم توانائی کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔

صحت مند متبادل

ان کے مطابق، کیلوری سے بھرپور میٹھے کھانے کے متعدد متبادل بھی ہیں جن میں ایئر فرائیڈ قطایف سے لے کر تازہ پھلوں کے سلاد شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گھر میں میٹھے تیار کرنا بھی ان لوگوں کے لیے ایک اچھا طریقہ ہے جو چینی، تیل اور چکنائی کی مقدار کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔

مختلف پھلوں سے تیار کردہ سلاد کا پیالہ  [سٹاک فوٹو]
مختلف پھلوں سے تیار کردہ سلاد کا پیالہ [سٹاک فوٹو]

ماہر غذائیت کی جانب سے صحت کے حوالے العربیہ کے ساتھ شیئر کیے گئے کچھ اہم نکات یہ ہیں:

• ہائیڈروجنیٹڈ تیل، جیسے پودوں پر مبنی گھی اور سبزیوں کے تیل (مکئی اور سورج مکھی) کے استعمال سے پرہیز کریں، کیونکہ ان تیلوں کے ساتھ ڈیپ فرائی کرنے سے ٹرانس فیٹس پیدا ہوتے ہیں اور جسم میں سوزش بڑھ جاتی ہے۔

• نامیاتی مکھن اعتدال میں استعمال کریں۔

• سفید آٹے کا استعمال کم کریں۔

• شکر کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کریں، تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی ذائقہ کی حس کم مقدار کی عادی ہو جائے گی۔

• گھر پر کھانا بنائیں جیسے پھلوں اور گری دار میوے کے ساتھ اسفنج کیک، ائیر فرائیڈ یا سینکا ہوا میٹھا پکوان، یا ایوکاڈو یا گری دار میوے کے ساتھ فروٹ سلاد۔

مقبول خبریں اہم خبریں