سعودی عرب: تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے میں 271 سال قدیم ’’ مسجد الحصن‘‘ کی پائیداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی بحالی کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ اس مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں میں 30 تاریخی مساجد کو نئے سرے سے تزئین و آرائش کرکے بحال کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 271 سال قدیم ’’ مسجد الحصن‘‘ کو بھی بحال کر دیا گیا۔

اس حوالے سے مسجد کی پائیداری کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔ 1173 ہجری میں تعمیر کی گئی ’’مسجد الحصن الاسفل‘‘ عسیر کے علاقے میں ہے۔ اس کے ڈیزائن کے مطابق اس کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ ’’مسجد الحصن الاسفل‘‘ کو بحال کرتے ہوئے اس کے تمام ممتاز خصوصیات کو باقی رکھا گیا ہے۔

’’ مسجد الحصن الاسفل‘‘ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ڈیزائن ’’ السراۃ‘‘ طرز پر بنایا گیا ہے، یہ وہ ماڈل ہے جس پر عمارت کی تزئین و آرائش کی جا رہی۔ اس کا رقبہ 134.18 مربع میٹر ہے۔ اس میں 32 نمازیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس کے تعمیراتی مواد کو دوبارہ تیار کیا جا رہا ہے۔

مسجد الحصن کے جمالیاتی عناصر کو بحال کیا جا رہا ہے اور اس کی تعمیر کو السروات پہاڑ کے پتھروں سے اور قدرتی مواد سے مزین کیا جارہا ہے۔ اس کی چھتوں اور ستونوں میں پتھر استعمال کیے جارہے اور کھڑکیوں اور دروازوں میں مقامی لکڑی کا استعمال ہے۔

مسجد الحصن راہگیروں کی مہمان نواز کے لیے ’’ المنزالہ‘‘ نام کے کمرے کے لیے بھی معروف ہے۔ اس کی عمارت پہاڑوں پر بلند دیہاتوں میں عمارتوں اور گزرگاہوں کے مجموعی شہری تانے بانے کے طرز لیے ہوئے ہے۔ السراۃ طرز تعمیر میں آب و ہوا کے عوامل، جگہ اور سماجی اور ثقافتی عوامل کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں