'آٹزم معذوری نہیں،پیانو میں تخلیفی صلاحیتوں کے ماہراماراتی بچے کی والدہ کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یہ کہانی ایک اماراتی خاتون کی ہے جو اپنے بیٹے احمد کے ذریعے آٹزم کے بارے میں لوگوں کی رائے بدلنا چاہتی ہیں، جس نے آٹزم کی مشکلات کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے شکست دی۔

ماں کی محبت کیا کر سکتی ہے؟ احمد الموسوی کے لیے، جواب ہے، بہت کچھ! 12 سالہ احمد آٹزم کا شکار ہیں۔ جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی خلیجی ریاستوں میں بطور پیانسٹ تخلیقی صلاحیتوں کا مطاہرہ کرکے متعدد انعامات جیت چکے ہیں۔

احمد الموسوی اسکول میں ایک چھوٹے بچے کے طور پر اساتذہ کی تشویش کا باعث بنے یہاں تک کہ انہیں متحدہ عرب امارات کی نرسری سے اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ اس سے اسکول کی ساکھ خراب ہو گی۔

اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ان میں آٹزم کی تشخیص ہوئی، پریشانی کے اس وقت کے دوران ان کی والدہ ایمن نے دریافت کیا کہ احمد میں موسیقی کا ایک نادر ہنر موجود تھا۔

اگرچہ انہیں بولنے میں دشواری کا سامنا تھا لیکن احمد پیانو بجا کر اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے تھے۔

وہ محض کانوں سے سن کر موسیقی کے سروں کی شناحت بھی کر سکتے تھے۔ یہ ایک نایاب مہارت ہے جسے پرفیکٹ پچ کہا جاتا ہے۔

ان کی والدہ نے اس انکشاف کے بعد ان کی زندگی کو کامیابی کی طرف مثبت انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

کچھ تربیت کے بعد، احمد نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے لوگوں کے حیران کر دیا۔

12 سالہ احمد اب دبئی کے صدارتی محل سمیت ملک کے چند معزز ترین مقامات پر کلاسیکی موسیقی پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے خود موسیقی کمپوز کرنا شروع کر دی اور جاز اور ہپ ہاپ گانے لکھنے میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔

کچھ آٹسٹک افراد، بول چال میں مشکل کے باوجود بعض شعبوں میں بے حد کامیاب ہوتے ہیں۔

ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ احمد کے لیے، پیانو سے محبت جنون کی حد تک ہے۔وہ صبح سویرے پیانو بجانا شروع کرتے ہیں اور اس وقت تک بجاتے رہتے جب تک کہ ان کی انگلیاں نیلی پڑ جائیں یا سوج نہ جائیں۔

ان کی والدہ نے اس ماہ عالمی یوم آٹزم پر العربیہ انگلش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں پوری دنیا کو آٹزم کے بارے میں تعلیم دینا چاہتی ہوں، اور میں چاہتی ہوں کہ [لوگ] آٹزم کو معذوری کے طور پر دیکھنا چھوڑ دیں، کیونکہ ایسا نہیں ہے،"

"کچھ لوگ مجھے کہتے تھے: 'اوہ میرے خدا، وہ پیانو بجاتا ہے، سبحان اللہ۔ خدا نے اس سے اگر کچھ لیا تو کچھ اور دے دیا۔‘‘

"اور میں ان سے کہتی 'خدا نے کبھی اس سے کچھ نہیں لیا۔ بلکہ خُدا نے اُسے ایک خاص چیز دی کی ہے جو دوسرے بچوں کے پاس نہیں ہے۔‘‘

دس سال پہلے ایمن کے لیے احمد کی تشخیص کے بعد زندگی ایک جدوجہد تھی، لیکن وہ کہتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں آٹزم کے شکار لوگوں کے لیے اب چیزیں بدل رہی ہیں۔

آٹزم کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ان کی کوششوں میں سے ایک احمد کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں کتاب لکھنا ہے، جس کا عنوان ’شو می دی ورلڈ تھرو یور آئیز‘ ہے۔

یہ کتاب 2019 میں عربی میں شائع ہوئی تھی، اور اس کا انگریزی ترجمہ جلد ہی شائع ہونے والا ہے۔

اس ماہ آٹزم آگاہی کے مہینے کے لیے ایمن کا پیغام ہے کہ "میں نہیں چاہتی کہ لوگ ان بچوں پر ترس کھائیں۔ ان کی صلاحیتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کے پاس دینے کے لیے بہت کچھ ہے، بس انھیں تھوڑا سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں