رمضان کا نصف گزرنے پر سعودی بچوں نے’’القریقعان‘‘ کس طرح منائی؟

الاحساء میں بچے گلی کوچوں میں نکل آئے، معروف روایتی ترانا ’’ ام قصیر و رمیضان‘‘ پڑھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پیار اور قربت سے بھرے معصوم الفاظ، خوشی اور دعاؤں کی پکار کے درمیان بچوں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ بچے یہ الفاظ گنگنا رہے ہیں ۔ ’’ اللہ نے ہمیں عطا کیا، اللہ آپ کو بھی عطا کرے گا، مکہ کا گھر آپ کو بھی دے گا‘‘ ۔ یہ رمضان المبارک کی 15 ویں شب ہے اور عرب خلیج کے معاشروں میں ایک تاریخی روایت چلی آرہی ہے کہ بچے اس شب کو مناتے ہیں۔یہ ایک سماجی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔ ان الفاظ سے ماہ صیام کا نصف مکمل ہونے پر جشن منایا جاتا اور شکریہ ادا کیا جارہا ۔ اس رواج کا تذکرہ ورثہ سے متعلق بہت سی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

رمضان المبارک کا نصف گزرنے پر خوشی منانے کے لیے اپنایا گیا یہ رواج عرب معاشروں میں موجود رہا ہے اگرچہ اس کو منانے کے طریقے مختلف تھے تاہم ان کی روح ایک ہی رہی۔ رمضان کے چاند کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی اس درمیانی شب بچے نکل آتے اور گلی کوچوں میں گھومتے ہیں۔ نظمیں پڑھتے ہوئے وہ لوگوں کا دروازہ کھٹکا کر ان سے تحائف وصول کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قدیم سماجی عادات میں تبدیلی آئی ہے یہاں تک کے کئی سماجی روایات کے لیے معاشرہ بے حس ہوگیا ہے۔ تاہم ’’ القریقعان‘‘ کی اس روایت کے حوالے سے سعودی عرب میں اب بھی جگہ موجود ہے۔ ماڈرن زمانے کے اعتبار سے اس میں تبدیلی آگئی ہے۔ مثال کے طور پر اب بہت سی ڈیلیوری سروسز موجود ہیں جن کے ذریعہ ’’ القریقعان‘‘ کے تحائف گھر پرہی منگوا لیے جاتے ہیں۔

القرقیعان کی محفل
القرقیعان کی محفل

مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحساء کے لوگوں نے رواج کے مطابق اس سال بھی رمضان کی پندرہویں شب "القریقعان" کی پابندی کی ۔ الاحساء کی گلیاں بچوں اور بڑوں سے بھر گئیں۔ خاص طور پر الاحساء کے بوڑھوں نے مقامی ملبوسات زیب تن کئے۔ قدیم ورثہ کے گانے گائے گئے۔ معروف گانا گایا گیا جس کے بول یوں تھے۔ "قرقع قرقع قرقيعان، أم اقصير ورميضان، عطونا الله يعطيكم، بيت مكة يوديكم ... عادت عليكم صيام، كل سنة وكل عام"۔

بچوں کے ساتھ ڈھولچی بھی تھا جو ڈھول بچا کر بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ وہ والدین سے کہ رہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو باہر بھیجیں۔ اور مٹھائیاں، ٹافیاں اور میوہ جات تقسیم کریں۔ مختلف محلوں میں گھروں کو سجایا گیا تھا۔ اس طرح قدیم ’’ الاحساء‘‘ میں بھرپور خوشیاں منائی گئیں۔

رمضان کا نصف مکمل ہونے پر خوشی مناتے ہوئے
رمضان کا نصف مکمل ہونے پر خوشی مناتے ہوئے

رمضان المبارک کے چودھویں روز افطاری سے فارغ ہونے کے بعد ہی بچے شہر ’’الھفوف‘‘ کی کالونی "الرفعہ الشمالی‘‘ میں نکل آئے۔ بچوں نے روایتی کڑھائی والے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وہ گھروں میں گلیوں میں اور شاہراہوں پر ڈھول کی تھاپ پر روایتی گانے گاتے جارہے تھے۔ ایک کپڑے کا تھیلا بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ تھیلا روایتی طریقے سے سلایا جاتا ہے۔ اس میں مٹھایاں اور میوہ جات موجود ہوتے ہیں۔ یہ مٹھایاں انہیں گھروں کے مالکان دیتے ہیں۔ بچے گروہ در گروہ چلتے ہیں۔ بچوں کا گروہ کسی مکان کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا ہے اور دعاؤں بھرے اور خوشیوں سے بھرپور ترانا پڑھاجاتا ہے۔

خیال رہے ’’القرقیعان‘‘ کو دیگر بہت سے نام بھی دیے جاتے ہیں۔ ان میں ’’ القرقیعان، القريقعانہ، الكريكعان، الناصفہ، الكريكشون، القريقشون، القرقاعون، القرنقعوه اور القرنقشوه کے نام شامل ہیں۔ ایک سے دوسرے علاقے میں جاتے ہوئے اس رسم کا نام بدل جتا ہے۔ تاہم اس کی روح ایک ہی ہے۔ امارات میں اسے ’’ حق الیلہ‘‘ یا ’’حق اللہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ عمان میں اسے ’’ الطلبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور کویت میں اسے القرقيعان اور الناصفہ کہا جاتا ہے۔ قطر میں اسے ’’القرنقعوه کی رات‘‘ کہا جاتا ہے۔ عراق میں اس کا نام ’’ کرکیعان‘‘ ہوجاتا ہے۔ وسط عراق میں اسے ’’ لیلہ ماجینا‘‘ یا ’’ ماجینا‘‘ کہا جاتا ہے۔ بحرین میں اس کا نام ’’القرقاعون‘‘ اور ’’الناصفہ‘‘ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں